Read in English  
       
Rural Tech Careers

حیدرآباد ۔ ریاستی وزیر داناسری انسویا المعروف سیتکّا نے بدھ کے روز مُلُگ ضلع میں شریا انفوٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کا افتتاح کیا اور کہا کہ تربیتی پروگراموں کا مقصد نوجوانوں کو روزگار دلانے اور ان کے روشن مستقبل کی تعمیر میں مدد فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

افتتاحی تقریب میں ضلع کلکٹر بورکھڈے ہیمنت ساہادیو راو بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر مختلف عوامی نمائندوں اور مقامی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

سیتکّا نے کہا کہ یہ ادارہ دیہی علاقوں کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جدید مہارتوں کی فراہمی نوجوان نسل کو بہتر مستقبل کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھولے گا۔ مزید برآں اس سے ضلع کے نوجوانوں کو مقامی سطح پر بہتر پیشہ ورانہ مواقع حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

دیہی نوجوانوں کے لیے نئے امکانات | Rural Tech Careers

سیتکّا نے کہا کہ مہارتوں کی ترقی اور روزگار کی فراہمی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر ہیں۔ چنانچہ نوجوانوں کو صرف تربیت فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں عملی روزگار کے مواقع بھی میسر آنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ معیاری تربیت نوجوانوں کے کیریئر کے امکانات میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اس سے انہیں مختلف شعبوں میں بہتر ملازمتوں تک رسائی حاصل کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں ہی ترقی کے مواقع ملنے چاہئیں تاکہ علاقائی ترقی کا عمل بھی تیز ہو سکے۔

مہارت اور ترقی کا مشترکہ وژن | Rural Tech Careers

حکام کے مطابق اس نوعیت کے ادارے نہ صرف نوجوانوں کی امنگوں کو تقویت دیتے ہیں بلکہ علاقائی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مزید برآں جدید تربیتی سہولتیں مقامی معیشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

تقریب میں مارکیٹ کمیٹی کی چیئرپرسن ریگا کلیانی، مُلُگ میونسپل چیئرپرسن چنتنی پولا چندرکلا، ادارے کے بانی روی کمار، مقامی کونسلرز اور دیگر عوامی نمائندے بھی موجود تھے۔

شرکاء نے امید ظاہر کی کہ اس ادارے کے قیام سے ضلع میں نوجوانوں کے لیے نئی پیشہ ورانہ راہیں ہموار ہوں گی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی شرکت میں اضافہ ہوگا۔ چنانچہ اس اقدام کو نوجوانوں کی ترقی اور خود کفالت کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔