Read in English
Crop Management

حیدرآباد ۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ کسانوں کو کاشتکاری اور فصلوں کی خریداری کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس مقصد کے لیے بیجوں کی فراہمی سے لے کر فصلوں کی خریداری تک ایک جامع نظام نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت سے وابستہ تمام مراحل کی مؤثر نگرانی کسانوں کے مفاد میں ناگزیر ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مونسون کی تیاریوں، زرعی سیزن اور متعلقہ انتظامات کا جائزہ نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا، وزراء تملا ناگیشور راؤ اور ڈی سریدھر بابو، رکن راجیہ سبھا ویم نریندر ریڈی، چیف سیکریٹری کے رام کرشنا راؤ اور دیگر سینئر حکام کے ساتھ اجلاس میں لیا۔

اجلاس کے دوران گزشتہ دھان خریداری مہمات سے حاصل ہونے والے تجربات، کسان کمیشن کی سفارشات، زرعی جامعات کی تجاویز اور ماہرین کی آراء پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کاشت سے خریداری تک نگرانی کا نظام | Crop Management

اے ریونت ریڈی نے آئندہ زرعی سیزن سے خریداری کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی۔ یہ کمیٹی محکمہ زراعت کے سیکریٹری کی سربراہی میں کام کرے گی جبکہ ڈائریکر زراعت، منیجنگ ڈائریکر سول سپلائیز اور پلاننگ ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری اس کا حصہ ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق یہ کمیٹی بیجوں کی تقسیم، کسانوں کی رجسٹریشن، فصلی ریکارڈ، پیداوار کے تخمینوں اور اناج کی خریداری سمیت ہر مرحلے کی نگرانی کرے گی۔ مزید برآں زرعی سرگرمیوں کے مختلف مراحل میں درکار احتیاطی اور اصلاحی اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے ہدایت دی کہ جدید ٹیکنالوجی اور زمینی سطح کی نگرانی کے ذریعے درست ریکارڈ تیار کیا جائے۔ چنانچہ ہر گاؤں میں کاشت کی جانے والی فصلوں اور زیر کاشت رقبے کی تفصیلات فیلڈ ویریفکیشن کے ذریعے مرتب کی جائیں گی۔

باریک چاول اور خریداری کے عمل پر توجہ | Crop Management

وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو کم از کم امدادی قیمت اور مرکزی حکومت کی ہدایات کے مطابق خریداری کے عمل کو مؤثر بنانے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ غیر موسمی بارشوں، وزن کے تعین، نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹنگ سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کرنے کا بھی حکم دیا۔

اے ریونت ریڈی نے کہا کہ باریک چاول کی کاشت کرنے والے کسانوں کو بونس کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ باریک دھان کی 7 اقسام کے بیج بھی دستیاب کرائے جائیں۔ یہ بیج سبسڈی کے ساتھ رعیتو ویدیکا مراکز کے ذریعے تقسیم کیے جائیں گے۔

انہوں نے حکام کو باریک دھان کاشت کرنے والے تمام کسانوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے اور پیداوار کے درست تخمینے تیار کرنے کی بھی ہدایت دی۔ مزید یہ کہ محکمہ زراعت کو ریاست بھر میں پیداوار کے رجحانات پر مسلسل نظر رکھنی ہوگی۔

ٹیکنالوجی اور کھاد کی فراہمی میں اصلاحات | Crop Management

وزیر اعلیٰ نے رعیتو ویدیکا مراکز کو مکمل کسان خدماتی مراکز میں تبدیل کرنے کی ہدایت دی۔ ان مراکز پر کسان اپنی تفصیلات درج کرا سکیں گے اور بیج و کھاد بھی حاصل کر سکیں گے۔

اس کے علاوہ ہر رعیتو ویدیکا میں محکمہ زراعت، محکمہ مال اور پولیس کا ایک ایک عہدیدار موجود رہے گا۔ ضلع سطح پر نگرانی کی ذمہ داری ایڈیشنل کلکٹروں کو سونپی گئی ہے۔

اے ریونت ریڈی نے بھدرادری کوتہ گوڑم ضلع کے دمہ پیٹ منڈل میں شروع کیے گئے مصنوعی ذہانت کے پائلٹ منصوبے کے نتائج کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ ان کے مطابق جہاں فائدہ ہو وہاں محکمہ زراعت مصنوعی ذہانت پر مبنی حل اپنائے۔

کھاد کی تقسیم میں شفافیت بڑھانے کے لیے ایپ پر مبنی بکنگ نظام متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کسان ایپ کے ذریعے کھاد بک کر سکیں گے اور رعیتو ویدیکا مراکز سے حاصل کر سکیں گے۔

زرعی اداروں کی مضبوطی اور کسانوں کے مفادات | Crop Management

وزیر اعلیٰ نے حکام کو مارک فیڈ کے نقصانات کم کرنے اور اس کی مالی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ مکئی کی خریداری میں اختیار کی گئی حکمت عملی کے باعث بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق جو مکئی پہلے تقریباً 13000 روپے فی ٹن قیمت حاصل کرتی تھی، اس سال اس کے لیے 21000 روپے فی ٹن سے زیادہ کی ٹینڈر قیمت حاصل ہوئی۔ مزید برآں انہوں نے آئل فیڈ کو مضبوط بنانے اور اس کی منافع بخش کارکردگی میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے ریاست کے ڈیری شعبے کو مزید مستحکم بنانے اور دودھ پیدا کرنے والوں کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان دوست زرعی نظام کے قیام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مؤثر انداز میں کام کرنا ہوگا۔

کسانوں کے لیے نئی راہ ہموار

اے ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد ایک ایسا زرعی نظام تشکیل دینا ہے جو جدید ٹیکنالوجی، شفاف خریداری، معیاری بیجوں کی فراہمی اور مؤثر خدمات کے ذریعے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرے۔ ان کے مطابق مجوزہ اقدامات سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں بہتری آئے گی بلکہ ریاست میں زرعی پیداوار اور مارکیٹنگ کا نظام بھی مزید مضبوط ہوگا۔