Read in English  
       
Airport Expansion

حیدرآباد ۔ عادل آباد میں مجوزہ مشترکہ دفاعی اور شہری ہوابازی ہوائی اڈے کے منصوبے کو اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے، جہاں ضلعی حکام نے اراضی کے حصول کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تکمیل سے ضلع میں ترقی اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔

ضلع کلکٹر راج رِشی شاہ نے کہا کہ انتظامیہ اراضی کے حصول کا پورا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دے گی۔ انہوں نے یہ بات ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے دوران کہی جس میں عادل آباد کے رکن پارلیمان گودم ناگیش، رکن اسمبلی پایل شنکر، فضائیہ کے حکام اور ریاستی محکمہ شہری ہوابازی کے ڈائریکٹر بھارت ریڈی شریک تھے۔

اجلاس سے قبل حکام اور عوامی نمائندوں نے مجوزہ مقام کا دورہ کیا اور رن وے کی توسیع سمیت مختلف تکنیکی پہلوؤں کا مائیکرو سطح پر جائزہ لیا۔ اس دوران زمین کی دستیابی اور بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔

اراضی حصول کا عمل اور منصوبہ بندی | Airport Expansion

راج رِشی شاہ نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی ہدایات کے بعد ریاستی حکومت نے اراضی کے حصول کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت پہلے ہی 700 ایکڑ اراضی کے حصول کی منظوری دے چکی ہے۔

مزید برآں دفاعی انفراسٹرکچر اور ایئر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے لیے 1500 ایکڑ اراضی مختص کرنے کی ابتدائی منظوری بھی حاصل کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ شہری ہوابازی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے رن وے کی توسیع کے لیے مزید 80 ایکڑ زمین مختص کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

کلکٹر نے کہا کہ اراضی کے حصول کے پورے عمل میں جیو کوآرڈینیٹس کا استعمال کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ چنانچہ مطلوبہ زمین جلد از جلد حاصل کر کے وزارت دفاع اور ہوائی اڈہ حکام کے حوالے کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی اور شہری ہوابازی دونوں شعبوں کی آمد عادل آباد کے لیے تاریخی موقع ثابت ہو سکتی ہے اور اس سے مقامی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔

مرکزی حکومت سے رابطے اور ترقی کی امیدیں | Airport Expansion

رکن پارلیمان گودم ناگیش نے بتایا کہ مجوزہ ہوائی اڈے کے مقام کا معائنہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ رواں سال نئی دہلی میں مرکزی وزراء راج ناتھ سنگھ، رام موہن نائیڈو اور جی کشن ریڈی کے ساتھ اس منصوبے پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔

مزید یہ کہ 15 مئی کو مرکزی حکومت کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم نے بھی علاقے کا دورہ کر کے جائزہ لیا تھا۔ گودم ناگیش کے مطابق وزارت دفاع کی جانب سے مطلوب 1500 ایکڑ اراضی کے حصول کے لیے مرکز اور ریاستی حکومتیں مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں تفصیلی نقشوں کی مدد سے مائیکرو سطح کا جائزہ لیا گیا تاکہ منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے۔ لہٰذا مختلف محکمے باہمی تعاون کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

رکن اسمبلی پایل شنکر نے کہا کہ حالیہ جائزہ اجلاس کے بعد اراضی کی مجموعی ضرورت کے بارے میں مزید وضاحت حاصل ہوئی ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 1840 ایکڑ اراضی درکار ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ 360 ایکڑ زمین پہلے ہی وزارت دفاع کے کنٹرول میں موجود ہے جبکہ رن وے کی توسیع کے لیے مزید 80 ایکڑ زمین حاصل کی جانی باقی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر منظوریوں سے متعلق عمل بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

عادل آباد کے لیے ترقی کا نیا باب| Airport Expansion

پایل شنکر نے اعلان کیا کہ جلد ہی نئی دہلی میں ایک اور اہم اجلاس منعقد ہوگا جس کی قیادت رکن پارلیمان گودم ناگیش کریں گے۔ متوقع طور پر اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی، راج ناتھ سنگھ اور جی کشن ریڈی سمیت دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گی۔

انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ ہوائی اڈہ عادل آباد کے عوام کا دیرینہ خواب پورا کرے گا اور خطے میں معاشی ترقی، روزگار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

عادل آباد ہوائی اڈہ منصوبے میں تیز رفتار پیش رفت نے مقامی عوام کی امیدوں کو مزید تقویت دی ہے۔ اراضی کے حصول، دفاعی تعاون اور شہری ہوابازی کے منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ پورے خطے کی معاشی اور صنعتی ترقی کو بھی نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔