Read in English
Welfare Irregularities

حیدرآباد ۔ سابق وزیر اور بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی ہریش راؤ نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں فلاحی پروگراموں کی جگہ بدعنوانیوں نے لے لی ہے اور مختلف طبقات سے کیے گئے اہم وعدے پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کسانوں، طلبہ، نوجوانوں اور کمزور طبقات کو حکومتی پالیسیوں سے مایوسی کا سامنا ہے۔

منگل کے روز کریم نگر ضلع کے مناکونڈور حلقے کے الگنور گاؤں میں منعقدہ پارٹی کارکنوں کے توسیعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ عوام پر مختلف ٹیکسوں اور فیسوں کے ذریعے اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت عوامی فلاح کے بجائے دیگر معاملات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ مناکونڈور حلقہ بی آر ایس کے قیام کے بعد سے پارٹی کا مضبوط مرکز رہا ہے اور تلنگانہ تحریک میں یہاں کے کارکنوں نے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سیاسی محرکات کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

فلاحی منصوبوں پر سوالات | Welfare Irregularities

ٹی ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ مختلف شعبوں میں بدعنوانیوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق سول سپلائیز، سنگارینی، برقی شعبے اور اراضی کے معاملات میں بے ضابطگیوں کی شکایات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے گروکل اداروں کے ذریعے نافذ کی جانے والی بعض فلاحی اسکیموں پر بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ عوامی فلاح سے ہٹ چکی ہے اور شفافیت کے فقدان نے کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ لہٰذا حکومت کو ان الزامات پر وضاحت پیش کرنی چاہیے۔

ٹی ہریش راؤ کے مطابق عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ انہیں معلوم ہو کہ سرکاری وسائل کس طرح استعمال کیے جا رہے ہیں اور مختلف منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقم کا حساب کتاب کیا ہے۔

گروکل ٹینڈرز اور کسانوں کے مسائل | Welfare Irregularities

بی آر ایس رہنما نے گروکل اداروں میں جاری کیے گئے ٹینڈرز پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً 1200 کروڑ روپے مالیت کے یونیفارم اور جوتوں کے معاہدے مشتبہ حالات میں دیے گئے۔ مزید یہ کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 800 کروڑ روپے کے غذائی سپلائی ٹینڈرز بھی سوالات کی زد میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض ٹینڈرز کی تفصیلات متعلقہ محکموں کے وزراء کے لیے بھی واضح نہیں تھیں۔ چنانچہ انہوں نے سرکاری خریداری کے عمل میں مکمل شفافیت لانے کا مطالبہ کیا۔

ٹی ہریش راؤ نے کسانوں سے متعلق رعیتو بندھو پروگرام کے نفاذ پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسانوں کو مالی امداد کی 3 قسطیں موصول نہیں ہوئیں اور حکومت پر تقریباً 19000 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امدادی رقوم میں تاخیر سے کسان برادری متاثر ہوئی ہے۔ مزید برآں حکومت کو فوری طور پر بقایا ادائیگیاں جاری کرنی چاہئیں اور کسانوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے۔

اجلاس میں بی آر ایس کے سینئر رہنما گنگولا کملاکر، جیون ریڈی، رکن قانون ساز کونسل ایل رمنا، رکن اسمبلی پاڈی کوشک ریڈی، سابق رکن اسمبلی رسامئی بالاکشن اور متعدد پارٹی کارکنوں نے شرکت کی۔

ٹی ہریش راؤ نے اپنے خطاب میں حکومت کی فلاحی پالیسیوں، ٹینڈرنگ کے عمل اور کسانوں کو مالی امداد کی فراہمی پر کئی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے حکومت سے شفافیت بڑھانے، الزامات کی وضاحت کرنے اور مختلف طبقات سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا مطالبہ کیا۔