Read in English
Asset Probe

حیدرآباد ۔ انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے محکمہ لینڈ اینڈ سروے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ناراہری کے خلاف مبینہ طور پر آمدنی کے معلوم ذرائع سے زائد اثاثے رکھنے کے الزامات پر وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی ابتدائی معلومات موصول ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی۔

اے سی بی کی مختلف ٹیموں نے ناراہری سے وابستہ متعدد مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ، دفاتر اور قریبی رشتہ داروں و قریبی ساتھیوں سے منسلک جائیدادوں کی بھی جانچ کی گئی۔

حکام نے حیدرآباد اور اس کے اطراف تقریباً 10 مختلف مقامات پر ایک ساتھ تلاشی مہم چلائی۔ مزید برآں تحقیقات کے دوران متعدد اہم دستاویزات اور مالیاتی ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اثاثوں کی جانچ پر توجہ | Asset Probe

اے سی بی حکام نے تلاشی کے دوران اراضی سے متعلق دستاویزات، بینک کھاتوں کے ریکارڈ اور نقدی و سونے سے متعلق کاغذات کی جانچ کی۔ اس کے علاوہ دیگر مالیاتی دستاویزات اور سرمایہ کاری کے ریکارڈ بھی کھنگالے جا رہے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیمیں یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا مذکورہ اثاثے سرکاری آمدنی کے مطابق ہیں یا نہیں۔ چنانچہ مختلف مقامات سے حاصل ہونے والی معلومات کو یکجا کر کے تفصیلی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا اے سی بی کی ٹیمیں مختلف مقامات پر اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر مزید جانچ بھی کی جا رہی ہے۔

مارکیٹ ویلیو اور حتمی رپورٹ کا انتظار | Asset Probe

حکام نے ابھی تک تلاشی کے دوران سامنے آنے والے اثاثوں کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق تمام ریکارڈ اور دستاویزات کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد اثاثوں کی مجموعی مالیت کا تعین کیا جائے گا۔

مزید یہ کہ متعلقہ جائیدادوں، مالی سرمایہ کاری اور دیگر اثاثوں کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا بھی تخمینہ لگایا جائے گا تاکہ الزامات کی نوعیت کا مکمل اندازہ ہو سکے۔

اے سی بی کے مطابق تلاشی کارروائی مکمل ہونے کے بعد حاصل شدہ معلومات کا قانونی اور مالیاتی تجزیہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد ادارہ اپنی تحقیقات کے نتائج اور اثاثوں کی تخمینی مالیت سے متعلق باضابطہ بیان جاری کر سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

ناراہری کے خلاف شروع کی گئی اے سی بی کی کارروائی نے سرکاری حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ تلاشی مہم مکمل ہونے اور اثاثوں کی جانچ کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ الزامات میں کتنی حقیقت ہے اور آیا مزید قانونی کارروائی کی ضرورت پیش آتی ہے یا نہیں۔