Read in English  
       
Maize Protest

حیدرآباد ۔ تلنگانہ اسمبلی کے باہر اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب بی آر ایس کے ارکان اسمبلی مکئی کی بالیوں کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی کی طرف مارچ کرنے لگے۔ پارٹی کے ایم ایل ایز اور ایم ایل سیز نے کسانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے علامتی طور پر مکئی ساتھ لائی۔

اس سے قبل رہنماؤں نے تلنگانہ شہداء کی یادگار گن پارک پر حاضری دے کر خراج عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں وہیں سے احتجاجی مارچ شروع کیا گیا جس میں ارکان اسمبلی نے مکئی کی بالیاں اٹھا کر کسانوں کی پریشانیوں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی۔

ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مکئی کی فصل کے لئے مناسب اور منافع بخش قیمت فراہم کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے زیر التوا رعیتو بھروسہ بقایا جات فوری جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اسمبلی میں کسان مسائل پر احتجاج | Maize Protest

مظاہرین نے مکئی کی بالیوں کے ساتھ اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی تاکہ ایوان کے اندر کسانوں کی حالت زار کو اجاگر کیا جا سکے۔ تاہم اسمبلی کے داخلی دروازے پر تعینات مارشلز نے انہیں روک دیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے قواعد کے مطابق اس نوعیت کی اشیاء کو ایوان کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی وجہ سے مارشلز نے ارکان کو گیٹ پر ہی روک کر مکئی کے ساتھ داخلے کی کوشش ناکام بنا دی۔

کسانوں کے مطالبات اور سیاسی کشیدگی | Maize Protest

اس اقدام کے بعد موقع پر کچھ دیر کے لئے تناؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ بی آر ایس کے رہنماؤں نے پولیس اور اسمبلی مارشلز کے ساتھ بحث بھی کی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ اگر اسمبلی کسانوں کی نمائندگی کرتی ہے تو پھر کسانوں کی پیداوار کو اندر لے جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایوان کو کسانوں کے مسائل سننے کے لئے کھلا ہونا چاہیے۔

مزید برآں پارٹی نے الزام لگایا کہ کسانوں کے مسائل اٹھانے سے روکنا غیر جمہوری طرز عمل ہے۔ بی آر ایس کے مطابق حکومت زرعی بحران سے متعلق آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔

آخر میں رہنماؤں نے کہا کہ کسانوں کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور حکومت کو فوری طور پر مکئی کے لئے مناسب قیمت اور کسان اسکیموں کی ادائیگی یقینی بنانی چاہیے۔