Read in English  
       
Tribal Development

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے قبائلی علاقوں کی ترقی کو ترجیح دینے کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی سہولیات کی بہتری اور اہم مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ ایجنسی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کو تیز کیا جائے گا۔ مزید برآں انہوں نے متعلقہ حکام کو رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت بھی دی۔

پس منظر میں ایک وفد، جس کی قیادت وزیر سیتکّا کر رہی تھیں، نے جوبلی ہلز میں وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس وفد میں قبائلی ارکان اسمبلی شامل تھے جنہوں نے ترقیاتی مسائل سے متعلق ایک یادداشت پیش کی۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے ان مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے حکام کو واضح ہدایات دی گئی ہیں۔ لہٰذا آئندہ دنوں میں ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی متوقع ہے۔

بنیادی ڈھانچہ اور پانی کے منصوبے | Tribal Development

مزید تفصیل بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایجنسی علاقوں میں چیک ڈیمز تعمیر کیے جائیں گے تاکہ پینے کے پانی اور آبپاشی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ مزید یہ کہ ان منصوبوں کے لیے منظوری کے عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ کام جلد شروع ہو سکے۔

اسی دوران جنگلات کے محکمے سے متعلق اجازت ناموں کے مسائل کو بھی حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ چنانچہ سڑکوں کی تعمیر سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے گا۔ نتیجتاً قبائلی علاقوں میں رابطہ نظام بہتر ہونے کی توقع ہے۔

رہائشی سہولیات اور انتظامی اصلاحات | Tribal Development

ارکان اسمبلی کی درخواستوں پر وزیر اعلیٰ نے قبائلی کسانوں کی زمینوں پر بورویل کھدائی کی اجازت دینے پر مثبت ردعمل ظاہر کیا۔ اس کے علاوہ سڑکوں کی مرمت اور منظوریوں میں تاخیر کو فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دریں اثنا اندراما ہاؤسنگ اسکیم کے کوٹے میں اضافے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

مزید برآں حکومت انٹیگریٹڈ ٹرائبل ڈیولپمنٹ ایجنسیز کو مزید مضبوط بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ انتظامی کارکردگی بہتر ہو سکے۔ اس ملاقات میں ویدما بوجو، پایم وینکٹیشورلو اور ڈاکٹر مرلی نائک بھی شریک تھے۔

آخر میں یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ حکومت قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ لہٰذا اگر ان منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ علاقے سماجی اور معاشی طور پر مزید مستحکم ہو سکتے ہیں۔