Read in English  
       
GCC Hub

حیدرآباد ۔ آئی ٹی اور صنعتوں کے وزیر دُدّلا سریدھر بابو نے کہا کہ حیدرآباد تیزی سے عالمی کمپنیوں کے لیے ترجیحی مرکز بنتا جا رہا ہے، جس سے اس کی حیثیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ رجحان خاص طور پر مالیاتی اداروں کے عالمی آپریشنز کے لیے نمایاں ہے۔ مزید برآں، شہر کی مسلسل ترقی اسے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مضبوط افرادی قوت، معیاری بنیادی ڈھانچہ اور کم کرایہ اس کامیابی کے اہم عوامل ہیں۔ تاہم، دیگر میٹرو شہروں کے مقابلے میں بہتر ٹریفک صورتحال بھی ایک بڑا فائدہ بن کر سامنے آئی ہے۔ اسی وجہ سے، کئی عالمی کمپنیاں اپنے دفاتر کو یہاں منتقل کر رہی ہیں۔

پیکو ٹیکنالوجی کے نمائندوں نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سیکریٹریٹ میں وزیر سے ملاقات کی، جس میں روڈز اینڈ بلڈنگز کے وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی بھی شریک تھے۔ یہ کمپنی نیویارک سے کام کرتی ہے اور اپنی ذیلی کمپنی کے ذریعے حیدرآباد میں نیا مرکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس ملاقات نے شہر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

بنیادی ڈھانچہ اور مواقع | GCC Hub

ملاقات کے دوران سریدھر بابو نے شہر میں دستیاب بنیادی سہولیات اور ترقی کے مواقع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ 5 سے 20 سال کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ شہر میں دفاتر کے استعمال کی شرح 73 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ممبئی میں یہ شرح صرف 52 فیصد ہے۔

اس کے برعکس، بنگلورو اور ممبئی جیسے شہروں میں ٹریفک اور فضائی آلودگی سنگین مسائل بن چکے ہیں۔ لہٰذا، آئی ٹی کمپنیاں اور عالمی مراکز حیدرآباد کا رخ کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت نے شہر کی ترقی کو مزید رفتار دی ہے۔

سڑکوں اور رابطہ نظام کی بہتری | GCC Hub

ادھر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے سڑکوں کی ترقی کے لیے بڑے فنڈز مختص کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ نہرو آؤٹر رنگ روڈ سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ایک نیا ریجنل رنگ روڈ زیر تعمیر ہے۔ مزید برآں، اہم راستوں کو جوڑنے کے لیے ریڈیل سڑکیں بھی بنائی جائیں گی۔

اسی کے ساتھ، رنگ روڈ کے ساتھ ایک ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ رابطہ نظام مزید بہتر ہو سکے۔ شہر کی ترقی کے منصوبوں میں حیات نگر سے ایل بی نگر تک ڈبل ڈیکر سڑک کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت نچلی سطح مقامی ٹریفک جبکہ بالائی سطح تیز رفتار آمدورفت کے لیے استعمال ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے حیدرآباد ان چند شہروں میں شامل ہو جائے گا جو ناگپور کے بعد اس نوعیت کا انفراسٹرکچر رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ ٹینڈر کا عمل 2 ماہ میں مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد تعمیراتی کام شروع کیا جائے گا۔

اس موقع پر پیکو ٹیکنالوجی کے بانی اور سی ای او جارڈ یوسٹر، پیکو انڈیا کے سی ای او ہری کوڈندارامن اور ڈائریکٹر سیتارام بھی موجود تھے۔ ان کی شرکت نے اس منصوبے کی سنجیدگی اور عالمی دلچسپی کو ظاہر کیا۔

آخرکار، حیدرآباد کی بڑھتی ہوئی اہمیت نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ لہٰذا، مستقبل میں اس شہر کا کردار مزید مضبوط ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔