Read in English  
       
Marital Dispute Killing

حیدرآباد ۔ حیدرآباد کے ملکاجگری پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ماروتی نگر میں ایک خاتون کے قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر شوہر نے اپنی بیوی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت نشا رانی کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں ان کے شوہر ارون کمار کا نام سامنے آیا ہے، جس پر فائرنگ کرکے قتل کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

ازدواجی تنازع کی پس منظر کہانی | Marital Dispute Killing

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کافی عرصے سے اختلافات چل رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کی علی الصبح ارون کمار مبینہ طور پر ایک اور شخص کے ہمراہ گھر پہنچا اور نشا رانی کو بات چیت کے لیے بلایا۔

اطلاعات کے مطابق گفتگو کے دوران اچانک صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ اسی دوران ارون کمار نے مبینہ طور پر نشا رانی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں اور موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔

مزید برآں، فائرنگ کی آواز سن کر مقامی رہائشی گھروں سے باہر نکل آئے اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور ضروری شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا۔

تحقیقات میں سامنے آنے والے اہم نکات | Marital Dispute Killing

بعد ازاں پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سکندرآباد کے گاندھی اسپتال منتقل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی تفتیش شروع کی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق ارون کمار نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس کی بہن سے پسند کی شادی کی تھی۔ تاہم وقت کے ساتھ دونوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بڑھتی گئی اور ازدواجی مسائل شدت اختیار کرتے گئے۔

دوسری جانب تفتیش کے دوران ایک اور اہم بات سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق تقریباً 3 ماہ قبل امبرپیٹ میں گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران ارون کمار کو ایک آتشیں اسلحے کے ساتھ پکڑا گیا تھا، جسے حکام نے ضبط کر لیا تھا۔

تاہم پولیس کو شبہ ہے کہ اسلحہ ضبط ہونے کے بعد اس نے پرانے شہر میں اپنے بعض روابط کے ذریعے ایک اور ہتھیار حاصل کیا۔ چنانچہ تفتیشی ٹیم اب اس نئے ہتھیار کے ماخذ، اس کی فراہمی کے ذرائع اور اس واقعے تک پہنچنے والے حالات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے محرکات، مبینہ ملزم کی سرگرمیوں اور اسلحے کے حصول سے متعلق تمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔ مزید برآں، واقعے سے متعلق شواہد اور گواہوں کے بیانات بھی جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ مکمل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔