Read in English  
       
Khelo Strategy

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سرینگر میں جاری کھیلوں سے متعلق اہم مشاورتی اجلاس (کھیلو انڈیا چنتن شیویر) میں شرکت کر رہا ہے، جہاں ملک بھر میں کھیلوں کی ترقی اور باہمی تال میل پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس کو قومی سطح پر کھیلوں کی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، مختلف ریاستوں کے نمائندے بھی اس پلیٹ فارم پر اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں۔

اس وفد کی قیادت صوبائی وزیر واکٹی سری ہری کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ مشیر اے پی جتیندر ریڈی، اسپورٹس اتھارٹی کے چیئرمین شیوا سینا ریڈی، خصوصی چیف سیکریٹری جیش رنجن اور منیجنگ ڈائریکٹر سونی بالا دیوی بھی شریک ہیں۔ دوسری جانب، مرکزی سطح پر اس پروگرام کی قیادت مرکزی وزیر منسکھ منڈاویا اور وزیر مملکت نکھل کھڈسے کر رہے ہیں۔ اس طرح ریاست اور مرکز کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ اجلاس سرینگر کے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں ملک کے مختلف حصوں سے وزراء، کوچز، کھلاڑی اور افسران شریک ہیں۔ اسی دوران، پہلے دن یوگا سیشن کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں تلنگانہ کے وزیر نے مرکزی وزیر کے ساتھ شرکت کی۔

کھیلوں میں ہم آہنگی کی حکمت عملی | Khelo Strategy

اجلاس کے دوران مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل پر تفصیلی گفتگو کی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ مستقبل میں کھیلوں کی ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، پالیسی سازی کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔

تلنگانہ کا وفد اپنی ریاست کی کھیلوں کی پالیسی پیش کرے گا اور اب تک کیے گئے اقدامات کو اجاگر کرے گا۔ مزید برآں، وہ بنیادی ڈھانچے اور دیگر ترقیاتی ضروریات کے لیے مرکز سے تعاون بھی طلب کرے گا۔ اس طرح ریاستی سطح پر کھیلوں کے فروغ کو مزید تقویت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یوگا اور صحت کا فروغ | Khelo Strategy

اجلاس کے موقع پر یوگا کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا، جہاں وکیتی سری ہری نے یوگا سیشن میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ یوگا نہ صرف جسمانی فٹنس کو بہتر بناتا ہے بلکہ ذہنی سکون میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا، انہوں نے تمام عمر کے افراد کو باقاعدگی سے یوگا کرنے کی ترغیب دی۔

مزید یہ کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف صحت مند معاشرے کے قیام میں معاون ثابت ہوتی ہیں بلکہ کھیلوں کے میدان میں کارکردگی کو بھی بہتر بناتی ہیں۔ اسی لیے ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کھیلوں کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جسمانی توازن بھی ضروری ہے۔

آخر میں، یہ اجلاس ملک میں کھیلوں کے شعبے کو نئی سمت دینے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف پالیسی سازی میں بہتری آئے گی بلکہ ریاستوں کے درمیان تعاون بھی مضبوط ہوگا۔