Read in English  
       
Tourism Recognition

حیدرآباد ۔ وزیر سیاحت، ثقافت و ایکسائز جوپلّی کرشنا راؤ نے کہا کہ نیتی آیوگ کی ’دیویہ بھارت‘ رپورٹ میں تلنگانہ کی سیاحت کو ملی پہچان ریاست کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعتراف ریاست کی متنوع سیاحتی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید برآں، رپورٹ میں مختلف اہم مقامات اور ثقافتی اثاثوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس طرح تلنگانہ کا سیاحتی پروفائل مزید مضبوط ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حسین ساگر، گولکنڈہ قلعہ اور بھونگیر قلعہ جیسے تاریخی مقامات بدستور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ تاہم، روحانی مراکز جیسے یادادری مندر اور بھدراچلم مندر بھی بڑی تعداد میں زائرین کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ مقامات مذہبی اور ثقافتی اہمیت کے حامل ہیں۔ نتیجتاً، سیاحت کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔

تاریخی اور ثقافتی مقامات کی اہمیت | Tourism Recognition

وزیر نے کہا کہ قدرتی حسن سے مالا مال مقامات بھی ریاست کی کشش میں اضافہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کنٹلا آبشار اور بوگاتھا آبشار کا حوالہ دیا جو سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔ مزید برآں، سمکّاں سرلمّاں جاترا جیسے تہوار ثقافتی ورثے کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس طرح تلنگانہ کی ثقافت اور روایت کو عالمی سطح پر پہچان مل رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پوچم پلی اکاٹ جیسی روایتی دستکاریاں بھی رپورٹ میں شامل کی گئی ہیں۔ تاہم، یہ عناصر ریاست کی شناخت کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان سے مقامی معیشت کو بھی فروغ ملتا ہے۔ نتیجتاً، سیاحت اور صنعت کے درمیان تعلق مزید مستحکم ہوتا ہے۔

سیاحتی فروغ اور حکومتی اقدامات | Tourism Recognition

جوپلّی کرشنا راؤ نے سیاحوں کو تلنگانہ آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ریاست ایک مکمل سفری تجربہ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی روایات، کھانے اور قدرتی مناظر سیاحوں کو منفرد تجربہ دیتے ہیں۔ مزید برآں، حکومت سیاحتی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ تاہم، ان اقدامات سے مستقبل میں مزید ترقی متوقع ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔ مزید یہ کہ ریاستی حکومت سیاحتی رسائی کو بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ اس پہچان سے تلنگانہ کی سیاحت کو عالمی سطح پر مزید تقویت ملے گی۔ نتیجتاً، ریاست کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔