Read in English  
       
Bail Dispute

حیدرآباد: سپریم کورٹ نے کانگریس رہنما پون کھیڑا کو تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی عبوری ضمانت پر روک لگا دی ہے، جس کے بعد ان کی گرفتاری سے متعلق عارضی تحفظ ختم ہو گیا۔ عدالت نے اس معاملے میں آسام حکومت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے حکم کو معطل کر دیا۔

جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے یہ عبوری حکم جاری کیا۔ مزید برآں، عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر فی الحال عملدرآمد نہیں ہوگا، جس سے قانونی کارروائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

قانونی دائرہ اختیار پر تنازع | Bail Dispute

آسام حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا دائرہ اختیار حاصل نہیں تھا، کیونکہ مبینہ جرم آسام میں پیش آیا اور ایف آئی آر بھی وہیں درج کی گئی۔ مزید یہ کہ ریاستی وکیل نے کہا کہ کھیڑا کی جانب سے دوسری ریاست کی عدالت سے رجوع کرنا قانونی عمل کا غلط استعمال ہے۔

اسی دوران عدالت نے نوٹ کیا کہ پون کھیڑا نے عبوری تحفظ میں توسیع کی درخواست بھی کی تھی۔ تاہم، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انہیں آسام میں متعلقہ عدالت سے پیشگی ضمانت حاصل کرنے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

کیس کی تفصیل اور الزامات | Bail Dispute

اس سے قبل تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک ہفتے کے لیے ٹرانزٹ اینٹیسیپیٹری بیل منظور کی تھی، تاکہ وہ مناسب عدالت سے رجوع کر سکیں۔ یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب آسام پولیس نے رنیکی بھویان سرما کے خلاف مبینہ ہتک آمیز ریمارکس پر مقدمہ درج کیا۔

کھیڑا کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ اگر بیانات غلط بھی ہوں تو وہ صرف ہتک عزت کے زمرے میں آتے ہیں اور گرفتاری کا جواز نہیں بنتے۔

دوسری جانب آسام حکومت نے سوال اٹھایا کہ کھیڑا نے اپنی ریاست کے بجائے تلنگانہ کی عدالت سے رجوع کیوں کیا۔ اسی کے ساتھ مقدمہ بھارتیہ نیایا سنہتا کی مختلف دفعات، بشمول ہتک عزت، جعلسازی اور مجرمانہ سازش کے تحت درج کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ قانونی دائرہ اختیار اور عدالتی طریقہ کار کے مسائل اس کیس میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں اس معاملے میں مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے۔