Read in English  
       
Regional Representation

حیدرآباد: بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے حد بندی کے معاملے پر مرکز کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کم کی گئی تو بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ محض سیاسی یا قانونی نہیں بلکہ عوامی ردعمل کو بھی جنم دے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبادی کی بنیاد پر حد بندی کا عمل ایک وسیع عوامی تحریک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بی آر ایس کا موقف اس معاملے پر پہلے دن سے واضح ہے اور پارٹی کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت جاری رکھے گی جو جنوبی ریاستوں کو کمزور کرے۔

کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ جنوبی ریاستوں نے قومی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لہٰذا ان کی نمائندگی کم کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہوگا بلکہ جمہوری اصولوں کے بھی خلاف ہوگا۔

سیاسی ردعمل اور انتباہ | Regional Representation

انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے اور ترقی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ تاہم، مجوزہ ماڈل ان کامیابیوں کو سزا دینے کے مترادف ہے، جو کسی بھی طور قابل قبول نہیں۔

مزید یہ کہ انہوں نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی پالیسیاں جو بہتر کارکردگی دکھانے والی ریاستوں کی نمائندگی کم کریں، جمہوریت کی روح کے خلاف ہیں۔ اس کے نتیجے میں عوامی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی | Regional Representation

کے ٹی راما راؤ نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمنٹ میں جنوبی ریاستوں کی آواز کمزور کی گئی تو بی آر ایس خاموش نہیں رہے گی۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ پارٹی علاقائی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور فیصلوں کے ممکنہ اثرات کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ پارٹی آئندہ بھی منصفانہ نمائندگی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ حد بندی کا معاملہ سیاسی سطح پر مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں اس مسئلے پر ملک بھر میں بحث اور ممکنہ احتجاج دیکھنے کو مل سکتا ہے۔