Read in English  
       
Uniform Orders

حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے ریاستی حکومت کی جانب سے اسکول یونیفارم سلائی کے آرڈرز کو تلنگانہ اسٹیٹ ہینڈلوم بنکر کوآپریٹو سوسائٹی سے واپس لینے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ عوامی اداروں کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ بنکروں کے روزگار پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔ تاہم انہوں نے حکومت کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اپنے بیان میں کے ٹی راما راؤ نے سوال کیا کہ آیا ریاست میں عوامی حکومت چل رہی ہے یا کسی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کا نظام نافذ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت سرکاری اداروں کے بجائے نجی کمپنیوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پالیسی کے شفاف ہونے پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ₹105 کروڑ کا اسکول یونیفارم آرڈر ٹی ایس ای سی او سے واپس لے لیا، جو ایک تشویشناک قدم ہے۔ اسی دوران انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ ویلفیئر محکمہ نے ₹200 کروڑ کے کپڑوں اور کمبل کے آرڈرز کیوں جاری نہیں کیے۔ نتیجتاً اس معاملے نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔

بنکروں پر اثرات اور پالیسی پر تنقید | Uniform Orders

مزید وضاحت کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے الزام لگایا کہ حکومت نے کمیشن حاصل کرنے کے لیے آرڈرز نجی کمپنیوں کو منتقل کیے۔ انہوں نے اسے مالی مفادات پر مبنی نظام قرار دیا۔ لہٰذا اس فیصلے سے ہینڈلوم بنکروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ایس ای سی او کو کام نہ دینے سے بنکروں کی آمدنی میں براہ راست کمی آئی ہے۔ مزید یہ کہ اس اقدام نے کوآپریٹو سیکٹر کو بھی کمزور کیا ہے۔ اسی لیے انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے فیصلے عوامی غصے کو جنم دے سکتے ہیں۔

سماجی پیغام اور خراج عقیدت | Uniform Orders

مزید برآں کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ہینڈلوم کارکن پہلے ہی کمزور ادارہ جاتی تعاون کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ووٹرز جلد ہی ان پالیسیوں کا جواب دیں گے۔ نتیجتاً اس معاملے کے سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

دوسری جانب انہوں نے سردار سروائی پاپنا کو ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے انہیں ایک بہادر رہنما قرار دیا جنہوں نے پسماندہ طبقات کے وقار کے لیے جدوجہد کی۔ مزید یہ کہ ان کی زندگی سماجی انصاف اور عزت نفس کی جدوجہد کی علامت رہی ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ پاپنا کی میراث آج بھی لوگوں کو حوصلہ دیتی ہے اور مساوات کے لیے جاری جدوجہد کو تقویت فراہم کرتی ہے۔