Read in English  
       
Musi Project

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں موسیٰ ندی کی ترقیاتی اسکیم ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے کانگریس حکومت پر اس منصوبے کے ذریعے بڑے پیمانے پر گھوٹالے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے ناگول کے علاقے میں ندی کے کنارے جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کرنے کے بعد یہ بیان دیا۔

کے ٹی راما راؤ جمعرات کے روز بی آر ایس کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ناگول پہنچے جہاں انہوں نے ندی کے اطراف پہلے شروع کیے گئے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے ندی کی صفائی اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کو ترجیح دی تھی۔ تاہم ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک جامع منصوبہ بھی تیار کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ناگول سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے تقریباً ₹4,000 کروڑ کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ مزید برآں ان کے مطابق یہ سہولت مکمل ہونے پر ملک کا سب سے بڑا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ بن سکتی تھی۔

ندی کی صفائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی | Musi Project

کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ سابقہ حکومت نے موسیٰ ندی کی ترقی کے دوران مقامی آبادی کو بے دخل کیے بغیر کام انجام دیا۔ ان کے مطابق کسی بھی گھر کو مسمار کیے بغیر صفائی اور بحالی کا عمل آگے بڑھایا گیا تھا۔ مزید یہ کہ حکومت نے ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے پر بھی توجہ دی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2023 تک سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے تقریباً 85 فیصد کام مکمل ہو چکے تھے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ندی کے اوپر 15 پلوں کی منظوری بھی دی گئی تھی تاکہ شہری رابطہ بہتر بنایا جا سکے۔

منصوبے کی لاگت اور حکومتی پالیسی پر تنقید | Musi Project

بی آر ایس رہنما نے موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زیر التوا کاموں کو جلد مکمل کرے۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے اس منصوبے کی لاگت ₹16,000 کروڑ سے بڑھا کر تقریباً ₹1.5 لاکھ کروڑ کر دی ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے بڑے مالی گھوٹالے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

کے ٹی راما راؤ نے حیدرآباد میں ہائیڈرا اقدام کے تحت ہونے والی مسماریوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت بفر زون میں واقع تمام گھروں کے خلاف یکساں کارروائی کرے گی۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ ندی کے اطراف رہنے والے افراد میں خوف کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔

انہوں نے حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی آر ایس کو موقع دیا جائے تو وہ موسیٰ ندی کی خوبصورتی اور ترقی کے منصوبے کو مکمل کر سکتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس منصوبے کو شفاف اور عوامی مفاد کے مطابق آگے بڑھانا ضروری ہے۔