Read in English  
       
Temple Stampede

حیدرآباد ۔ ریاست تلنگانہ کے ایک گاؤں میں مذہبی تقریب کے دوران پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے عقیدت مندوں کو خوفزدہ کر دیا۔ آتش گڑھے کی ایک روایتی رسم کے دوران اچانک بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں تقریباً 10 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی ہونے والوں میں بیشتر افراد وہ تھے جو رسم میں شرکت کے لیے آگ کے گڑھے کو عبور کر رہے تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ریاست کے سابق ضلع نلگنڈہ کے ایک مندر کے سالانہ میلے کے دوران پیش آیا۔ یہاں بڑی تعداد میں عقیدت مند جمع ہوئے تھے تاکہ دیوتا کی کلیان اتسو تقریب کے بعد منعقد ہونے والی روایتی مذہبی رسومات میں حصہ لے سکیں۔ تاہم اچانک بڑھتی ہوئی بھیڑ نے حالات کو بے قابو بنا دیا۔

بدھ کی صبح تقریباً 4 بجے عقیدت مندوں نے مذہبی روایت کے مطابق آتش گڑھے کو عبور کرنا شروع کیا۔ اس موقع پر رسم کو دیکھنے اور اس میں شامل ہونے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ مزید یہ کہ رسم کے مقام کے قریب اچانک بھیڑ بڑھنے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔

مذہبی رسم میں افراتفری | Temple Stampede

رسم کے دوران اچانک بھیڑ کے دباؤ نے عقیدت مندوں میں بے چینی پیدا کر دی۔ پیچھے موجود افراد آگے بڑھنے لگے جبکہ سامنے موجود لوگ آتش گڑھے کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ نتیجتاً کئی افراد توازن برقرار نہ رکھ سکے اور بھگدڑ کے دوران براہ راست جلتے ہوئے گڑھے میں جا گرے۔

مزید برآں اچانک پیدا ہونے والی افراتفری نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ خوف و ہراس کے باعث عقیدت مند ایک دوسرے کو دھکیلنے لگے اور کئی افراد جو آتش گڑھے کو عبور کر رہے تھے اپنا کنٹرول کھو بیٹھے۔ اس طرح چند لمحوں میں مذہبی تقریب ایک ہنگامی صورتحال میں تبدیل ہو گئی۔

امدادی کارروائیاں اور طبی امداد | Temple Stampede

واقعے کے فوراً بعد ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار اور مقامی افراد تیزی سے موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ کے گڑھے میں گرنے والے افراد کو باہر نکالا۔ مزید یہ کہ ان کی بروقت کوششوں کی وجہ سے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔

تاہم اس حادثے میں تقریباً 10 عقیدت مند جھلس کر زخمی ہو گئے۔ حکام نے فوری طور پر زخمی افراد کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کرنا شروع کر دی۔

دریں اثنا اس غیر متوقع حادثے نے میلے میں موجود عقیدت مندوں کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا۔ اگرچہ امدادی ٹیموں کی فوری کارروائی نے بڑے نقصان کو روک لیا، تاہم واقعے نے مذہبی تقریبات میں ہجوم کے انتظام اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا۔