Read in English  
       
Bribery Trap Case

حیدرآباد ۔ اینٹی کرپشن بیورو کے حکام نے بوئن پلی پولیس اسٹیشن میں ایک کارروائی کے دوران خاتون سب انسپکٹر اور پولیس رائٹر کو مبینہ طور پر 30000 روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ مزید برآں اس کارروائی نے محکمہ پولیس میں رشوت ستانی کے ایک اور معاملے کو منظرعام پر لا دیا۔

حکام کے مطابق ملزمان کی شناخت خاتون سب انسپکٹر کرن نندیتا اور پولیس رائٹر وجے کمار کے طور پر ہوئی ہے۔ اسی دوران بدھ کے روز اے سی بی نے خفیہ منصوبہ بندی کے تحت کارروائی انجام دی۔

تحقیقات کے مطابق بوئن پلی کے ایک شخص کے خلاف خاندانی تنازعات کے باعث اس کے والد کی جانب سے 2 مقدمات درج تھے۔ عدالتی احکامات کے مطابق اسے ہر پیر پولیس اسٹیشن میں حاضری دینا لازمی تھا۔

تاہم متاثرہ شخص نے پولیس رائٹر وجے کمار کو بتایا کہ وہ بوئن پلی سے کونڈاپور منتقل ہو رہا ہے اور ہفتہ وار حاضری سے استثنا چاہتا ہے۔ مزید برآں اسی درخواست کے بعد مبینہ رشوت کا معاملہ سامنے آیا۔

رشوت کے مطالبے پر اے سی بی کی خفیہ کارروائی | Bribery Trap Case

حکام کے مطابق ابتدائی طور پر وجے کمار نے 15000 روپے کا مطالبہ کیا۔ اس نے مبینہ طور پر کہا کہ 10000 روپے خاتون سب انسپکٹر کو اور 5000 روپے اس کے حصے میں آئیں گے۔

تاہم بعد میں شکایت کنندہ کو بتایا گیا کہ خاتون سب انسپکٹر سے بات چیت کے بعد رقم بڑھا کر 30000 روپے کر دی گئی ہے۔ لہٰذا شکایت کنندہ نے اینٹی کرپشن بیورو سے رجوع کرتے ہوئے باضابطہ شکایت درج کرا دی۔

اسکوٹر کی ڈگی میں رقم رکھوانے کا الزام | Bribery Trap Case

بدھ کے روز شکایت کنندہ ہدایت کے مطابق رقم لے کر پہنچا۔ تاہم خاتون سب انسپکٹر کرن نندیتا نے مبینہ طور پر رقم براہ راست لینے سے گریز کیا اور شکایت کنندہ کو ہدایت دی کہ رقم ان کے اسکوٹر کی ڈگی میں رکھ دی جائے۔

شکایت کنندہ نے رقم اسکوٹر کے اسٹوریج حصے میں رکھ کر چابی واپس کر دی۔ اسی دوران پہلے سے نگرانی کر رہے اے سی بی اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے کرن نندیتا اور وجے کمار کو شواہد کے ساتھ گرفتار کر لیا اور رشوت کی رقم بھی ضبط کر لی۔

حکام کے مطابق کرن نندیتا 2024 بیچ کی سب انسپکٹر ہیں جبکہ وجے کمار نے 2007 میں کانسٹیبل کے طور پر محکمہ پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ مزید برآں معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔