Read in English  
       
Pharmacy Shutdown Impact

حیدرآباد ۔ آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس کی جانب سے دی گئی ملک گیر میڈیکل شاپس بند کی کال کے باعث بدھ 20 مئی کو کئی شہروں میں دوا کی دکانوں کی خدمات متاثر ہوئیں۔ 24 گھنٹے پر مشتمل ہڑتال کا آغاز صبح سویرے ہوا جس کے بعد متعدد علاقوں میں میڈیکل اسٹورز بند دیکھے گئے۔

اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں 12.40 لاکھ سے زائد فارماسسٹ اور دوا تقسیم کاروں نے اس احتجاج کی حمایت کی۔ نتیجتاً مختلف ریاستوں اور بڑے شہروں میں ریٹیل میڈیکل اسٹورز بند رہے جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کیمسٹس تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ آن لائن فارمیسی پلیٹ فارمز نسخوں کی جسمانی جانچ کے بغیر اینٹی بایوٹک اور نشہ آور ادویات فروخت کررہے ہیں۔ مزید برآں ان کا دعویٰ تھا کہ بعض پلیٹ فارمز مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی نسخے استعمال کررہے ہیں۔

تنظیموں کے مطابق ایسے طریقہ کار عوامی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے جی ایس آر 220 ای اور جی ایس آر 817 ای نوٹیفکیشن کی مخالفت کرتے ہوئے فوری منسوخی کا مطالبہ بھی کیا۔

آن لائن فارمیسی پر اعتراضات | Pharmacy Shutdown Impact

کیمسٹس تنظیموں نے کہا کہ کووڈ-19 کے دوران مرکزی حکومت نے گھروں تک ادویات کی فراہمی آسان بنانے کے لیے مذکورہ نوٹیفکیشن جاری کیے تھے۔ تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ان پالیسیوں پر نظرثانی ضروری ہے۔

دریں اثنا دوا فروشوں نے کارپوریٹ ای فارمیسی اداروں پر چھوٹے تاجروں کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام لگایا۔ ان کے مطابق حکومتی قواعد کے تحت ادویات پر منافع کی شرح طے شدہ ہے، لیکن آن لائن کمپنیاں 20 فیصد سے 50 فیصد تک رعایت دے رہی ہیں۔

عوامی سہولت اور ہنگامی اقدامات | Pharmacy Shutdown Impact

دوسری جانب تلنگانہ ڈرگس کنٹرول ایڈمنسٹریشن اور دیگر ریاستی اداروں نے عوامی مشورے جاری کیے تاکہ مریضوں اور بزرگ شہریوں کو مشکلات سے بچایا جاسکے۔ حکام نے واضح کیا کہ سرکاری اور نجی اسپتالوں سے منسلک میڈیکل اسٹورز معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

مزید یہ کہ جن اوشدھی کیندر اور امرت فارمیسی مراکز بھی خدمات جاری رکھیں گے۔ اسی دوران اپولو اور میڈ پلس سمیت بڑی کارپوریٹ فارمیسی چینز نے اپنے اسٹورز کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا۔

تلنگانہ ڈرگس کنٹرول ایڈمنسٹریشن نے شکایات اور ہنگامی ادویات کی معلومات کے لیے 1800 599 6969 ٹول فری نمبر بھی جاری کیا ہے۔ حکام نے ہنگامی صورتحال میں مقامی ڈرگ انسپکٹرس سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔