Read in English  
       
Capital Support

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرمارکا ملو نے بدھ کے روز نئی دہلی میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے ملاقات کی اور ریاست کے لیے خصوصی مالی امداد کی درخواست پیش کی۔ انہوں نے ریاستی ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور سرمائے کے اخراجات سے متعلق کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے دوران بھٹی وکرمارکا نے ریاست کے لیے اسکیم فار اسپیشل اسسٹنس ٹو اسٹیٹس فار کیپیٹل انویسٹمنٹ کے تحت ₹5000 کروڑ کی خصوصی امداد طلب کی۔ مزید برآں انہوں نے تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے ایف آر بی ایم حدود سے استثنا دینے کی بھی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں جاری فلاحی اسکیموں اور ترقیاتی پروگراموں کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اضافی مالی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔ چنانچہ مرکز سے مزید مدد کی توقع ظاہر کی گئی۔

تعلیم اور ترقی کے لیے نئی درخواست | Capital Support

بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ریاستوں کو ایس اے ایس سی آئی اسکیم کے تحت 50 سال کے لیے سود سے پاک قرض فراہم کیا جس پر تلنگانہ حکومت اظہار تشکر کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران تلنگانہ کو پہلے ہی ₹4208 کروڑ کی رقم موصول ہو چکی ہے۔

مزید برآں انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اگرچہ ملک کی نسبتاً نئی ریاستوں میں شامل ہے لیکن ترقی کی رفتار تیزی سے آگے بڑھی ہے۔ تاہم 2014 سے 2023 کے درمیان اسپیشل پرپز وہیکل سے متعلق قرضوں کی ادائیگی نے مالی دباؤ میں اضافہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تعلیم، صحت، دیہی انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات ریاست کے مستقبل کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ینگ انڈیا منصوبوں پر خصوصی توجہ | Capital Support

بھٹی وکرمارکا نے مرکزی وزیر خزانہ کو بتایا کہ ریاستی حکومت ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریزیڈینشل اسکولس منصوبے کے ذریعے عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اضلاع میں نئے میڈیکل کالجز قائم کر رہی ہے جبکہ دیہی صحت خدمات اور تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ایک اور یادداشت بھی پیش کی جس میں تعلیمی شعبے میں ₹30000 کروڑ سرمایہ کاری منصوبے کا ذکر کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت 105 ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریزیڈینشل اسکولس کیمپسز کی تعمیر کے لیے ₹21000 کروڑ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

دریں اثنا مزید ₹9000 کروڑ سرکاری جونیئر کالجز، ڈگری کالجز، تکنیکی اداروں اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیے جانے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ چنانچہ حکومت تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

 تعلیم اور انفراسٹرکچر میں تلنگانہ کی سرمایہ کاری | Capital Support

بھٹی وکرمارکا نے دو اہم منصوبوں کی منظوری پر مرکز کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے ₹4049.11 کروڑ کے ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریزیڈینشل اسکولس منصوبے اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے تعاون سے ₹4903.44 کروڑ کے تلنگانہ ایجوکیشن انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن مشن منصوبے شامل ہیں۔

مزید برآں انہوں نے دونوں منصوبوں سے وابستہ قرضوں کو ایف آر بی ایم حدود سے مستثنیٰ قرار دینے کی درخواست بھی کی۔ ان کے مطابق یہ طویل مدتی سرمایہ کاری انسانی وسائل کی ترقی اور ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی طبقات کی تعلیمی بااختیاری کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم اور انفراسٹرکچر میں تلنگانہ کی سرمایہ کاری “وکست بھارت-2047” کے وژن میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق اگر مرکز کی جانب سے مزید تعاون حاصل ہوا تو ریاست کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہو سکتی ہے۔

اس ملاقات میں فنانس کے پرنسپل سیکریٹری سندیپ کمار سلطانیہ اور پلاننگ ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری ڈاکٹر گورو اپل بھی نائب وزیر اعلیٰ کے ہمراہ موجود تھے۔