Read in English  
       
Political Tension

حیدرآباد ۔ سابق وزیر اور بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ کو پولیس نے منگل کے روز نظر بند کر دیا تاکہ وہ پرگی جا کر احتجاج کرنے والے کسانوں سے ملاقات نہ کر سکیں۔ پولیس نے صبح سویرے ہی ان کی رہائش گاہ کے باہر بھاری نفری تعینات کر دی۔ نتیجتاً انہیں وقارآباد ضلع کے کلاپور جانے سے روک دیا گیا۔

پس منظر کے مطابق ہریش راؤ نے صنعتی پارک کے لیے زمین کے حصول کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملاقات کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم پولیس نے اس اقدام کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ اسی دوران دیگر اپوزیشن رہنماؤں پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔

پولیس نے بی آر ایس کے کئی رہنماؤں کو گھروں تک محدود کر دیا تاکہ وہ کسانوں تک نہ پہنچ سکیں۔ مزید یہ کہ سابق وزیر سبیتا اندرا ریڈی کو بھی نظر بند کیا گیا جبکہ سابق پرگی رکن اسمبلی کوپولا مہیش ریڈی کو گرفتار کر کے پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ بی آر ایس رہنما شوبھاپراد پٹیل کو بھی حراست میں لیا گیا۔

Political Tension

سیاسی پابندیاں اور گرفتاریوں کا سلسلہ | Political Tension

اسی دوران پولیس کی اس کارروائی پر پارٹی رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ لہٰذا اپوزیشن نے ان اقدامات کو سیاسی دباؤ قرار دیا۔ مزید برآں حکام نے کہا کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

جمہوری حقوق پر سوالات | Political Tension

ہریش راؤ نے اپنی نظر بندی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت جمہوری حقوق کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو کسانوں کی حمایت سے روکا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کے زمین سے متعلق خدشات کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اختتامیہ طور پر پرگی حلقے میں کشیدگی برقرار رہی جبکہ پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی سخت کر دی۔ مزید برآں حکام نے علاقے میں مسلسل نگرانی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حالات قابو میں رہیں۔