Read in English  
       
Cab Drivers Strike

حیدرآباد: حیدرآباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ایپ پر مبنی کیب ڈرائیورز نے ہفتہ کے روز ملک گیر ہڑتال شروع کر دی، جس کے باعث آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی۔ یہ ہڑتال ریپیڈو، اولا اور اوبر سے وابستہ ڈرائیورز کی جانب سے کی جا رہی ہے، جس نے شہری مسافروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔

ڈرائیورز نے 7 فروری 2026 کو “آل انڈیا بریک ڈاؤن” کے عنوان سے چھ گھنٹے کے احتجاج کا اعلان کیا۔ یہ احتجاج صبح 6 بجے شروع ہوا اور دوپہر 12 بجے تک جاری رہنے کا شیڈول ہے۔ اس دوران، ڈرائیورز نے اپنی ایپس بند کر رکھی ہیں اور سواری کی درخواستیں قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی شہروں میں کیب کی دستیابی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

کم از کم کرایہ کا مطالبہ | Cab Drivers Strike

ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ کم از کم بنیادی کرایہ مقرر نہ ہونے کی وجہ سے ان کی آمدنی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ مزید یہ کہ ان کا الزام ہے کہ ایپ کمپنیاں من مانے طریقے سے کرایے طے کر رہی ہیں اور بھاری کمیشن وصول کر کے ان کی کمائی مزید کم کر دیتی ہیں۔

احتجاج کرنے والے ڈرائیورز نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومتیں پہلے سے نوٹیفائیڈ کم از کم سفری کرایوں پر سختی سے عمل درآمد کرائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے ایپ کمپنیوں کی جانب سے یکطرفہ کرایہ پالیسی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ مزید برآں، نجی گاڑیوں کے ذریعے کمرشل سواریوں پر پابندی لگانے کی اپیل کی گئی۔

مسافروں پر اثرات اور انتباہ | Cab Drivers Strike

ڈرائیورز نے کرایوں کے حساب میں شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پروموشنل ڈسکاؤنٹس کا بوجھ براہ راست ان پر ڈالا جا رہا ہے۔ چنانچہ ان کے مطابق موجودہ کرایہ نظام پائیدار نہیں رہا اور فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔

ہڑتال کے باعث خاص طور پر مصروف اوقات میں مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نتیجتاً، بہت سے افراد عوامی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ڈرائیورز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو احتجاج کو مزید تیز کیا جائے گا اور مستقبل میں طویل اور سخت ہڑتالوں کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔