Read in English  
       
Transgender Employment

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے منگل کے روز ایک تاریخی اور انقلابی فیصلے کے تحت 20 ٹرانس جینڈر افراد کو حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹڈ میں سکیورٹی گارڈز کے طور پر ملازمت دی۔ Transgender Employment کا یہ اقدام معاشرتی شمولیت، عزت نفس اور مساوات کی سمت ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر برائے ایس سی، ایس ٹی، اقلیتی، معذور اور ٹرانس جینڈر ویلفیئر اڈلوری لکشمن کمار نے اپنے دفتر میں تقرری نامے تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانس جینڈر افراد کسی سے کم نہیں۔ وہ خودداری اور مساوی مواقع کے مستحق ہیں، اور حکومت ان کے وقار کو بلند کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

شمولیت کی جانب بڑا قدم

وزیر نے اس موقع پر یاد دلایا کہ وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے اس سے قبل بھی ٹرانس جینڈر افراد کو، جو پہلے ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگتے تھے، ٹریفک ریگولیٹر کے طور پر شامل کیا تھا۔ ان کے مطابق میٹرو میں یہ تقرری وزیراعلیٰ کی شمولیتی قیادت کا ایک اور سنگ میل ہے۔

اس تقرری کے لیے تقریباً 400 امیدواروں نے درخواست دی تھی، جن میں سے اہل اور ہنر مند افراد کو منتخب کیا گیا۔ وزیر کا کہنا تھا کہ یہ صرف روزگار نہیں بلکہ ہزاروں افراد کے لیے حوصلہ افزا مثال ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ثابت کر سکتے ہیں۔

سیکریٹری برائے ویمن اینڈ چائلڈ ویلفیئر و ایس سی ڈیولپمنٹ انیتا رام چندرن نے کہا کہ معاشرے میں ٹرانس جینڈر افراد کے حوالے سے رویے بدلنے لگے ہیں۔ ان کے مطابق چھوٹے چھوٹے اقدامات بڑی سماجی تبدیلی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اگر اخلاص سے کام کیا جائے تو پہچان خود بخود ملتی ہے۔

فلاحی اقدامات اور مستقبل

ٹرانس جینڈر برادری کے لیے تلنگانہ حکومت پہلے ہی کئی اسکیمیں شروع کر چکی ہے، جن میں اسپتالوں میں کاؤنسلنگ رومز، “میتری” ذہنی صحت کلینکس، شناختی کارڈز، ہنر مندی کی تربیت اور بینکنگ تقاضوں کے بغیر مالی امداد شامل ہے۔

انیتا رام چندرن نے مزید کہا کہ گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی عالمی کمپنیاں بھی ٹرانس جینڈر افراد کو ملازمت دینے میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق میٹرو کا یہ اقدام نہ صرف سرکاری بلکہ نجی شعبے میں بھی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Transgender Employment کی اس تقریب میں معذورین ویلفیئر ڈائریکٹر شیلجا، ایس آئی ایس انڈیا لمیٹڈ کے ایگزیکٹو گریش پانڈے، ڈئیر بندھو پیرنٹس ایسوسی ایشن کے نمائندے مکند مل، ماؤنٹ فونٹ سوشل انسٹی ٹیوشن کے ورگیز ٹیکاناتھ اور ٹرانس ویلفیئر کی بانی واسوی بھی شریک تھے۔