Read in English  
       
Elderly Accountability

حیدرآباد ۔ تلنگانہ اسمبلی نے بزرگ والدین کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور ملازمین میں جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم بل منظور کر لیا ہے۔ اس قانون کا مقصد بزرگ شہریوں کے وقار اور فلاح و بہبود کے لیے ایک واضح قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ مزید برآں یہ اقدام خاندانی ذمہ داری کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے۔

سماجی بہبود کے وزیر اڈلوری لکشمن کمار نے یہ بل ایوان میں پیش کیا جسے منظوری دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت ملازمین کے لیے اپنے والدین کے حوالے سے واضح ذمہ داریاں متعین کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ قانون معاشرتی نظم کو بہتر بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

یہ قانون صحت، رہائش اور مالی معاونت جیسے اہم شعبوں میں والدین کی دیکھ بھال کو لازمی قرار دیتا ہے۔ مزید برآں حکام کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ غفلت کے معاملات میں فوری کارروائی کر سکیں۔

جوابدہی اور شکایات کا نظام | Accountability

اس بل کے تحت والدین کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنی اولاد سے کفالت کا مطالبہ کر سکیں۔ مزید برآں اس میں ایک باقاعدہ نظام قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعے شکایات کا ازالہ کیا جا سکے گا۔

حکام کے مطابق اس قانون میں نگرانی کے مؤثر طریقہ کار شامل کیے گئے ہیں تاکہ اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اسی دوران جہاں بھی غفلت سامنے آئے گی، وہاں متعلقہ ادارے مداخلت کریں گے تاکہ انصاف فراہم کیا جا سکے۔

وزیر اڈلوری لکشمن کمار نے کہا کہ والدین کی دیکھ بھال ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بدلتے سماجی حالات نے روایتی خاندانی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔

سماجی تبدیلی اور قانونی تقویت | Accountability

انہوں نے کہا کہ یہ بل وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی رہنمائی میں پیش کیا گیا ہے۔ مزید برآں انہوں نے اسے ایک ضروری قانونی مضبوطی قرار دیا جو موجودہ چیلنجز کا جواب ہے۔

وزیر نے بتایا کہ حکومت ایک منظم نگرانی کا نظام قائم کرے گی۔ اس کے علاوہ شکایات کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو ذمہ دار بنایا جائے گا تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ قانون والدین کو چھوڑ دینے اور ان کی دیکھ بھال میں غفلت کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ نتیجتاً اس کا مقصد خاندانوں کے اندر ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینا ہے۔

اڈلوری لکشمن کمار نے اس بل کو سماجی اصلاحات میں ایک سنگ میل قرار دیا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت بزرگ شہریوں کے تحفظ اور خاندانی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔