Read in English  
       
Governance Chance

حیدرآباد: تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ نے پیر کے روز نرمل میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کو اچھی حکمرانی کا موقع دیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس، بی آر ایس اور ایم آئی ایم ایک خفیہ اتحاد کے تحت مل کر سیاست کر رہے ہیں۔

جلسے کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم آئی ایم دراصل کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق تینوں جماعتیں باہمی فائدے کے لیے ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہی ہیں، جبکہ عوامی مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

خفیہ اتحاد اور ووٹ بینک سیاست | Governance Chance

این رام چندر راؤ نے کہا کہ یہ جماعتیں ووٹ بینک سیاست کے لیے سماج میں تقسیم پیدا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اصل حکمرانی کے مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں، جبکہ عوام کو صرف جذباتی نعروں کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی دوران انہوں نے کانگریس اور سابقہ بی آر ایس حکومت دونوں کو ریاست کی مالی بدحالی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ریاست کبھی مضبوط مالی حالت میں تھی، وہ اب قرضوں کے بوجھ تلے دب چکی ہے۔

مسائل کی نشاندہی اور متبادل کا دعویٰ | Governance Chance

بی جے پی صدر نے طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ میں تاخیر، ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے مسائل اور کسانوں کو رعیتو بندھو امداد نہ ملنے کا ذکر کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عثمانیہ جیسی جامعات میں پروفیسروں کی شدید کمی ہے، جو تعلیمی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔

انہوں نے بی جے پی کو واحد متبادل قرار دیتے ہوئے صاف اور جوابدہ انتظامیہ کا وعدہ کیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی شہری ترقی سے متعلق فلاحی اسکیمات کا حوالہ دیتے ہوئے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ نرمل میں بی جے پی امیدواروں کو کامیاب بنا کر بی جے پی زیر قیادت بلدیہ قائم کریں۔

این رام چندر راؤ کے مطابق کانگریس اور بی آر ایس کو پہلے ہی کئی مواقع دیے جا چکے ہیں، لیکن دونوں جماعتیں وعدے پورے کرنے میں ناکام رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب عوام کو ترقی اور استحکام کے لیے بی جے پی کے حق میں فیصلہ کرنا چاہیے۔