Read in English  
       
Rowdy Sheeter Case

حیدرآباد:اولڈ سٹی میں منظم جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کو دہراتے ہوئے پولیس نے ایک بدنام روڈی شیٹر اور اس کے ساتھی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، یہ کارروائی شہریوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اسی لیے، حکام نے واضح پیغام دیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو کسی بھی صورت بخشا نہیں جائے گا۔

پس منظر کے مطابق، شاہ علی بنڈہ پولیس اسٹیشن میں کرائم نمبر 47/2026 درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں دھوکہ دہی، رقم میں خردبرد اور مجرمانہ دھمکیوں کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ شکایت کنندہ نے بتایا کہ 2024 میں اسے کاروباری شراکت داری کا جھانسہ دے کر 4.70 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کروائی گئی تھی۔

مالی دھوکہ دہی اور دھمکیاں | Rowdy Sheeter Case

پولیس کے مطابق، ملزم نے منافع ہڑپ کر لیا اور حساب کتاب سے گریز کرتا رہا۔ بعد ازاں، شکایت کنندہ سے تقریباً چھ تولے سونے کے زیورات یہ کہہ کر لے لیے گئے کہ انہیں قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تاہم، تفتیش میں سامنے آیا کہ زیورات رہن رکھ دیے گئے اور واپس نہیں کیے گئے۔

مزید یہ کہ، جنوری 2025 میں جب شکایت کنندہ نے اپنی رقم کے تصفیے کا مطالبہ کیا تو اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ خوف کے باعث اس نے کچھ عرصہ شکایت درج نہیں کروائی۔ بعد میں، حوصلہ کر کے وہ پولیس سے رجوع ہوا، جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔

خصوصی ٹیمیں تشکیل، گرفتاری کی کوشش | Rowdy Sheeter Case

پولیس نے بتایا کہ مرکزی ملزم ایک فہرست یافتہ روڈی شیٹر ہے اور اس کے خلاف 79 فوجداری مقدمات درج ہیں۔ شکایت موصول ہونے کے فوراً بعد خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں تاکہ اسے جلد گرفتار کیا جا سکے۔ اسی دوران، مالی لین دین کے ریکارڈ اور دیگر شواہد کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

آخر میں، چارمینار زون کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے واضح کیا کہ روڈی ازم، بھتہ خوری اور دھمکیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس ملزم کے بارے میں مستند معلومات ہوں تو آگے آئیں، جبکہ اطلاع دینے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔