Read in English  
       
Kidney Disease

حیدرآباد: انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) اور انڈیا بی کی نئی تحقیق کے مطابق تلنگانہ میں گردوں کے امراض کی شرح ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر 100 میں سے تقریباً 7 افراد گردوں سے متعلق مسائل کا شکار ہیں۔

محققین نے 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 25,408 افراد کا سروے کیا۔ نتائج کے مطابق تلنگانہ کی 7.4 فیصد آبادی گردوں کی بیماری میں مبتلا ہے، جو قومی اوسط 3.2 فیصد سے دوگنی ہے۔ اس طرح تلنگانہ ملک میں گردوں کے امراض کی بلند ترین شرح رکھنے والی ریاست بن گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گوا میں بھی 7.4 فیصد شرح ریکارڈ کی گئی، جبکہ بہار میں یہ سب سے کم یعنی 0.8 فیصد رہی۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال تلنگانہ کے لیے سنگین صحت عامہ کا چیلنج ہے جس پر فوری توجہ درکار ہے۔

ذیابطیس اور بلڈ پریشر بڑی وجوہات | Kidney Disease

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں گردوں کی خرابی کی بنیادی وجہ بلڈ پریشر اور ذیابطیس کے بڑھتے ہوئے کیسز ہیں۔ دونوں بیماریاں وقت کے ساتھ گردوں کی کارکردگی کو کمزور کر دیتی ہیں۔

غیر متوازن خوراک، زیادہ نمک اور چینی کا استعمال، اور موٹاپا اس بحران کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ مطالعے میں شامل ڈاکٹروں کے مطابق “گردوں کی بیماری ایک خاموش قاتل بن چکی ہے، کیونکہ علامات تب ظاہر ہوتی ہیں جب گردے کا زیادہ تر کام ختم ہو جاتا ہے۔”

آروگیہ شری ہیلتھ اسکیم کے اعداد و شمار نے بھی اس تحقیق کی تصدیق کی ہے، جس میں گردوں کے علاج سب سے زیادہ کیسز پر مشتمل پائے گئے۔

نوجوانوں میں بھی بڑھتے کیسز، 50 لاکھ افراد خطرے میں | Kidney Disease

محکمہ صحت کے اندازوں کے مطابق ریاست میں تقریباً 50 لاکھ افراد ذیابطیس یا ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں میں بھی گردوں کے امراض کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

ڈاکٹروں نے انتباہ دیا کہ درد کش ادویات کا زیادہ استعمال، خود علاجی، اور مختلف طبی طریقوں — جیسے آیوروید، ہومیوپیتھی اور ایلوپیتھی — کو ملانے سے گردوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ 30 سال سے زائد عمر کے تمام افراد سالانہ گردوں کے فنکشن ٹیسٹ لازمی کروائیں تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔