Read in English  
       
Cyber Shield Alliance

حیدرآباد ۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی حیدرآباد اور ایتھینین ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر سکیورٹی تحقیق، تعلیم اور صنعتی اشتراک کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ، تھریٹ انٹیلی جنس اور مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ پر مبنی سکیورٹی حل کے ذریعے سائبر تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

اس معاہدے کے تحت دونوں ادارے مشترکہ طور پر خصوصی سائبر سکیورٹی کورسز شروع کریں گے۔ علاوہ ازیں ورکشاپس، تربیتی پروگرام اور حکومت و صنعت کے اشتراک سے مختلف اقدامات کیے جائیں گے تاکہ سائبر سکیورٹی سے متعلق شعور اور مہارتوں کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ مفاہمتی یادداشت یو دیوا پریاکمار اور کنشک گور نے دستخط کی۔ تقریب کے دوران ماہرین نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں جدید سکیورٹی نظام ناگزیر بنتے جا رہے ہیں۔

تحقیق اور صنعت کے درمیان مضبوط رابطہ | Cyber Shield Alliance

پروفیسر پریاکمار نے کہا کہ یہ اشتراک تعلیمی تحقیق اور صنعتوں کو درپیش حقیقی سائبر خطرات کے درمیان موجود خلا کو کم کرنے میں مدد دے گا۔ ان کے مطابق تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ڈاکٹر کنشک گور نے کہا کہ جدید سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے ماہر افراد کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اشتراک نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کو جدید سائبر سکیورٹی نظاموں اور تھریٹ مینجمنٹ ٹیکنالوجیز سے واقف کرانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اسی کے ساتھ عملی تربیت کے ذریعے نئی نسل کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کی جائیں گی۔

مصنوعی ذہانت سے جدید دفاعی نظام | Cyber Shield Alliance

حکام کے مطابق یہ شراکت داری تحقیق پر مبنی جدت اور عملی تربیت کے ذریعے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی۔ اس کے تحت ایسے جدید سکیورٹی حل تیار کیے جائیں گے جو سرکاری اداروں اور تنظیموں کو درپیش جدید سائبر خطرات کا مؤثر مقابلہ کر سکیں۔

دونوں اداروں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ اقدام ایک مضبوط سائبر سکیورٹی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔ مزید برآں اس کے ذریعے ڈیجیٹل خطرات کے خلاف تیاری اور حفاظتی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔