Read in English  
       
Exam Leak Crisis

حیدرآباد ۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ صدر کے تارک راما راو (کے ٹی آر) نے نیٹ پرچہ لیک معاملے پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کے ساتھ فوری طور پر دوبارہ امتحان منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کو جاری کردہ بیان میں انہوں نے اس واقعہ کو این ڈی اے حکومت کے لیے شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکز قومی اہلیت امتحان کو محفوظ انداز میں منعقد کرنے میں ناکام رہا ہے۔

کے ٹی راما راو نے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً 23 لاکھ طلبہ نے اس سال کے امتحان کے لیے طویل تیاری کی تھی، لیکن مسلسل امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے 2024 کے اسی نوعیت کے تنازع سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور طلبہ و والدین کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ امتحان سے صرف 1 دن قبل 100 سے زائد سوالات لیک ہونا پورے نظام کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں امتحان منسوخ کرنا پڑا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ یہ مسلسل نااہلی طلبہ اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک بڑا بحران بن چکی ہے۔

مرکزی حکومت پر سخت سوالات | Exam Leak Crisis

بی آر ایس رہنما نے کہا کہ بار بار ہونے والے ایسے واقعات امتحانی نظام کی بڑی خامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لاکھوں طلبہ کے لیے منعقد ہونے والے مسابقتی امتحانات کو محفوظ بنانے میں مرکز کی صلاحیت پر اب سنجیدہ سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔

کے ٹی راما راو نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت نیٹ پرچہ لیک معاملے کی مکمل تحقیقات کرائے اور اس میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

طلبہ کے مستقبل پر تشویش | Exam Leak Crisis

بی آر ایس کے ورکنگ صدر نے مطالبہ کیا کہ نیٹ امتحان کو جلد از جلد دوبارہ منعقد کیا جائے اور اس مرتبہ سخت سکیورٹی انتظامات کیے جائیں تاکہ مزید بے ضابطگیوں کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور والدین کو جس پریشانی اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، اس کی مکمل ذمہ داری مرکز کو قبول کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو امتحانی تنازع کے باعث پیدا ہونے والی بے چینی اور ذہنی دباؤ پر طلبہ اور والدین سے معافی مانگنی چاہیے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ شفاف اور محفوظ امتحانی نظام قائم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں ناکامی ناقابل قبول ہے۔