Read in English  
       
Political Protest

حیدرآباد ۔ عنبرپیٹ میں بی آر ایس قائدین نے ایک کمسن لڑکی سے متعلق الزامات کے معاملے میں بنڈی سائی بھاگیرتھ کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑک پر احتجاج کیا۔ یہ احتجاج عنبرپیٹ حلقے میں بی آر ایس پارٹی کی قیادت میں 6 نمبر سرکل پر منعقد کیا گیا جہاں پارٹی کارکنوں اور خواتین کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے مرکزی وزیر بنڈی سنجے اور ان کے بیٹے کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر رکن اسمبلی کالے رو وینکٹیش، بی آر ایس رہنما اور پارٹی کارکن بھی موجود رہے۔ مظاہرین نے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔

POCSO Act کے تحت کارروائی کا مطالبہ | Political Protest

احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کالے رو وینکٹیش نے الزام عائد کیا کہ حکام اس معاملے کو POCSO Act کے تحت درج کرنے کے بجائے ہنی ٹریپ معاملہ قرار دے کر کیس کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے متاثرہ خاندان کو انصاف ملنے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ تلنگانہ میں بی جے پی اور کانگریس کے ایک ساتھ کام کرنے کے الزامات درست ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت اس معاملے میں سنجیدہ کارروائی کرنے کے بجائے سیاسی دباؤ کے تحت کام کر رہی ہے۔

کالے رو وینکٹیش نے مطالبہ کیا کہ بنڈی سنجے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملزم کو فوری گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں بھیجا جائے۔

انصاف تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان | Political Protest

بی آر ایس قائدین نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

خواتین کارکنوں نے بھی احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کہا کہ کمسن بچوں سے متعلق معاملات میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جانی چاہیے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ ایسے حساس معاملات میں سخت قانونی کارروائی ضروری ہے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔

کالے رو وینکٹیش نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انصاف کی اس جدوجہد میں ساتھ دیں اور متاثرہ خاندان کی حمایت جاری رکھیں۔ احتجاج کے باعث علاقے میں کچھ دیر کے لیے ٹریفک متاثر رہی جبکہ پولیس نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی۔