Read in English  
       
Crop Procurement

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر اعلی اے ریونت ریڈی نے ریاست بھر میں مکئی اور دھان کی خریداری کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے ضلع کلکٹروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس منعقد کرتے ہوئے خریداری مراکز پر جاری انتظامات اور کسانوں سے فصل کی آسان خریداری کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس میں وزراء تُملّا ناگیشور راؤ، این اتم کمار ریڈی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور ادلوری لکشمن کمار نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں رکن پارلیمنٹ ویم نریندر ریڈی، چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ویڈیو کانفرنس میں شریک رہے۔

نائب وزیر اعلی بھٹی وکرامارکا نے بھی اجلاس میں شرکت کی جبکہ وزراء جوپلی کرشنا راؤ، واکٹی سری ہری اور سیتاکا بھی اس جائزہ میٹنگ کا حصہ رہے۔ مختلف اضلاع کے کلکٹرس نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔

خریداری مراکز کے انتظامات پر تفصیلی تبادلہ خیال | Crop Procurement

وزیر اعلی نے ضلع حکام کے ساتھ خریداری کے انتظامات پر تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ ریاست بھر کے خریداری مراکز میں کسانوں کے لیے کس طرح سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ فصل کی خریداری میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔

حکام نے اجلاس کے دوران مختلف اضلاع میں جاری خریداری کارروائیوں سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ مزید برآں مراکز پر نقل و حمل، ذخیرہ اور دیگر بنیادی انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ کسانوں کو بروقت سہولتیں فراہم کی جائیں اور خریداری عمل میں شفافیت برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ فصل فروخت کے دوران کسانوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

کسانوں کے مفاد میں مؤثر اقدامات پر زور | Crop Procurement

اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ مکئی اور دھان خریداری مراکز پر موجودہ انتظامات کو مزید مؤثر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ریاستی حکومت کسانوں کے مفاد کے تحفظ کے لیے مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

وزیر اعلی اے ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت کسانوں کی محنت کا مناسب معاوضہ یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ تمام اضلاع میں خریداری عمل کو منظم رکھنے کے لیے کلکٹروں کو ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی خریداری کارروائیوں کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی بھی ضلع میں مسائل پیدا ہونے کی صورت میں فوری اقدامات کیے جا سکیں۔