Read in English  
       
Federal Politics

حیدرآباد ۔ کانگریس رہنما اور بھونگیر کے رکن پارلیمنٹ چمالا کرن کمار ریڈی نے تلنگانہ کی ترقی اور مرکزی فنڈنگ سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی کے ریمارکس پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست کی ترقی کو سیاسی وابستگی سے مشروط کرنا مناسب نہیں ہے۔

ایکس پر جاری اپنے بیان میں چمالا کرن کمار ریڈی نے وزیر اعظم کے اس تبصرے پر سوال اٹھایا جس میں انہوں نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی سے “ساتھ رہنے” کی بات کہی تھی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے پوچھا کہ کیا “سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کا نعرہ اب “بی جے پی کا ساتھ، تبھی وکاس” میں تبدیل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک وزیر اعظم کی ذمہ داری کشمیر سے کنیا کماری تک ہر شہری کے ساتھ مساوی برتاؤ کرنا ہے۔ ان کے مطابق حکمرانی اس بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے کہ کسی ریاست میں کون سی سیاسی جماعت اقتدار میں ہے۔

ترقیاتی فنڈز پر سیاسی بحث | Federal Politics

چمالا کرن کمار ریڈی نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز کسی سیاسی احسان کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وفاقی جمہوریت میں ہر ریاست کا آئینی حق ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تلنگانہ کی ترقی، صنعتیں، کسان اور نوجوان بی جے پی کی سیاسی حمایت پر منحصر نہیں ہونے چاہئیں۔

دریں اثنا کانگریس رہنما نے کہا کہ ترقی کو سیاسی حمایت سے جوڑنے کا پیغام عوام میں غلط تاثر پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایک مضبوط جمہوریت اسی وقت قائم ہوتی ہے جب تمام ریاستوں کو مساوی احترام اور مواقع فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی آوازوں کو بھی مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق حکمرانی کو جماعتی سیاست سے اوپر اٹھ کر انجام دیا جانا ضروری ہے تاکہ ملک میں جمہوری اقدار مضبوط ہو سکیں۔

مساوی سلوک پر زور | Federal Politics

چمالا کرن کمار ریڈی نے کہا کہ ترقی کا عمل سیاسی وفاداری سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام ایسی قیادت چاہتے ہیں جو پورے ملک کو متحد کرے، نہ کہ منتخب ریاستی حکومتوں پر سیاسی دباؤ ڈالے۔

مزید برآں انہوں نے کہا کہ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو ہر ریاست کو بغیر کسی سیاسی شرط کے مساوی مواقع اور اختیارات فراہم کرے۔ ان کے مطابق وفاقی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان متوازن تعلقات ناگزیر ہیں۔

کانگریس رہنما نے زور دے کر کہا کہ تلنگانہ سمیت تمام ریاستوں کو ترقیاتی منصوبوں اور مرکزی فنڈنگ میں یکساں اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ قومی ترقی کا عمل مزید مضبوط ہو سکے۔ا