Read in English  
       
Defection Inquiry

حیدرآباد: خیریت آباد کے رکنِ اسمبلی دانم ناگیندر نے کہا ہے کہ وہ انحراف کے معاملے میں اسمبلی اسپیکر کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق ان کے وکیل نے جاری کردہ نوٹس کا جواب پہلے ہی جمع کرا دیا ہے، تاہم اس پر اب تک کوئی ردعمل موصول نہیں ہوا۔ اس لیے صورتحال بدستور غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔

پس منظر کے طور پر، جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے وکیل نے اسپیکر گڈم پرساد کمار کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس کا قانونی جواب دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں جواب کے تمام نکات کی مکمل تفصیل معلوم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وضاحت جمع کرانے کے باوجود اسپیکر کے دفتر کی جانب سے کوئی ہدایت سامنے نہیں آئی۔ چنانچہ وہ اس معاملے میں باضابطہ فیصلے کے منتظر ہیں، جبکہ ان کی قانونی ٹیم پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

انحراف کیس میں پیش رفت | Defection Inquiry

دانم ناگیندر کے مطابق اسپیکر نے اب تک انہیں ذاتی طور پر پیش ہونے کی کوئی ہدایت نہیں دی۔ مزید یہ کہ نہ ہی کسی سطح پر انہیں انکوائری میں حاضر ہونے کا کہا گیا ہے۔ اسی لیے، فی الحال پورا معاملہ ان کے وکلاء سنبھال رہے ہیں۔

اسی دوران، انہوں نے کہا کہ بھارت راشٹرا سمیتی نے اب تک ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پارٹی جو بھی قدم اٹھائے گی، اس کے مطابق وہ اپنا ردعمل طے کریں گے۔

سیاسی حلقوں میں بحث | Defection Inquiry

انہوں نے واضح کیا کہ وہ انتخابات سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ اس کے باوجود، ان کے مطابق قانونی پہلوؤں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ مزید برآں، انکوائری کا عمل تیز ہونے سے سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ پیش رفت سپریم کورٹ کی جانب سے اراکینِ اسمبلی کی نااہلی کے معاملات پر سخت مؤقف کے بعد سامنے آئی ہے۔ نتیجتاً، 30 جنوری کو طے شدہ سماعت کے پیشِ نظر تلنگانہ کے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں، اور سب کی نظریں اسپیکر کے ممکنہ فیصلے پر مرکوز ہیں۔