Read in English  
       
CM Revanth Reddy

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے حالیہ امریکی ٹیرف میں اضافے اور ایچ-1 بی ویزا فیس بڑھانے کی مجوزہ پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حیدرآباد میں امریکی وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

تلنگانہ رائزنگ 2047 منصوبے کا اعلان | CM Revanth Reddy

یہ ملاقات ریاستی سیکریٹریٹ میں ہوئی جہاں وفد میں کاروباری شخصیات، پالیسی ماہرین اور سماجی رہنما شامل تھے۔ وزیر آئی ٹی و صنعت دڈیلا سریدھر بابو بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ اچانک ٹیرف میں اضافہ تجارت میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ کے تارکینِ وطن کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات امریکہ اور بھارت کے درمیان دوستانہ تعلقات کی بنیاد ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ریاست کی طویل مدتی اقتصادی پالیسی “Telangana Rising 2047” کا خاکہ پیش کیا۔ اس منصوبے کا مقصد 2034 تک ریاستی معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانا ہے۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد اب نیویارک، ٹوکیو اور سیول جیسے عالمی شہروں کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے۔ حکومت کا زور بنیادی ڈھانچے، صنعت کاری اور شہری ترقی پر ہے۔

اہم ترقیاتی منصوبے اور شہری تبدیلی | CM Revanth Reddy

انہوں نے متعدد منصوبوں کا ذکر کیا جن میں ریجنل رنگ روڈ، ریجنل رنگ ریل، میٹرو کی توسیع، بھارت فیوچر سٹی، موسی ریجووینیشن اور آندھرا پردیش سے بندرگاہی رابطہ شامل ہیں۔
ریونت ریڈی کے مطابق، موسی دریا کے کنارے تعمیر ہونے والا نیا ریورفرنٹ سیاحت اور شہری معیشت کو فروغ دے گا۔ ’’حیدرآباد کی ثقافت اور ورثہ اس وژن کو حقیقت بنا سکتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔

CM Revanth Reddy

چائنا پلس ون حکمت عملی میں تلنگانہ کا نیا کردار | CM Revanth Reddy

وزیراعلیٰ نے امریکی سرمایہ کاروں کو بھارت فیوچر سٹی منصوبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عالمی سطح پر ’’چائنا پلس ون‘‘ حکمت عملی میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے فارچون 500 کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ ریاست میں اپنی سرمایہ کاری کا مرکز قائم کریں۔

اے آئی یونیورسٹی اور مقامی صنعتوں پر توجہ | CM Revanth Reddy

وزیر صنعت دڈیلا سریدھر بابو نے بتایا کہ تلنگانہ جلد ہی ایک اے آئی یونیورسٹی قائم کرے گا تاکہ بھارت کا ’’اسکل کیپیٹل‘‘ بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل کیپیبیلٹی سینٹرز (GCCs) کو پروڈکٹ ایکسپورٹ ہب میں تبدیل کیا جائے گا۔
ان کے مطابق، حیدرآباد عالمی ویکسین سپلائی میں سب سے آگے ہے اور مقامی مینوفیکچررز کی صلاحیت مزید مضبوط کی جا رہی ہے۔

دورہ کرنے والے امریکی وفد کی تفصیل | CM Revanth Reddy

امریکی وفد میں پروفیسر والٹر رسل میڈ (ہڈسن انسٹی ٹیوٹ و وال اسٹریٹ جرنل)، مارک روزن بلیٹ (ریشنل ویو کیپیٹل)، ہارلن کرو (کرو ہولڈنگز)، ریونیل کری (ایگل کیپیٹل مینجمنٹ) اور ہنری بلنگزلی (بلنگزلی کمپنی) شامل تھے۔
ریونت ریڈی نے وفد کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تلنگانہ کے تعلقات باہمی اعتماد، ٹیکنالوجی اور ترقی پر مبنی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت پالیسی تسلسل اور شفاف ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور بھارت باہمی تعاون سے تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی ترقی کے نئے باب رقم کریں گے۔