Read in English  
       
Digital Fraud

حیدرآباد: ایک چونکا دینے والے واقعے میں، بوئن پلی علاقے میں ایک چور نے مسافر کا موبائل فون چھیننے کے بعد بینک کھاتے سے 6,00,000 روپئے نکال لیے۔ اس واقعے نے شہریوں میں بڑھتے ہوئے Digital Fraud کے خطرات کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ پرساد راؤ نظام آباد جانے والی بس میں سوار ہو رہا تھا کہ اچانک ایک چور نے اس کا فون چھین لیا۔ بعد ازاں ملزم نے موبائل میں موجود بینکنگ ایپس تک رسائی حاصل کر کے کھاتے سے بھاری رقم اڑا لی۔

پرساد راؤ نے فوری طور پر بوئن پلی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ پولیس نے کیس درج کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پولیس کی وارننگ اور احتیاطی تدابیر

 عوام کو پولیس حکام نے سختی سے ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے موبائل فون میں بینکنگ پاس ورڈ یا پن محفوظ نہ کریں۔ مزید کہا گیا کہ کسی بھی حالت میں او ٹی پی، کھاتے کی تفصیلات یا ذاتی معلومات اجنبیوں کے ساتھ شیئر نہ کی جائیں۔

عہدیداروں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حالیہ دنوں میں Digital Fraud کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر “ڈیجیٹل گرفتاری” کے نام پر دھوکہ دہی کی کئی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سائبر مجرم ہر روز نئے طریقے اپنا کر عوام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ موبائل فون اور بینکنگ ایپس کے غلط استعمال سے کس طرح عام شہری مالی نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ Digital Fraud سے بچنے کے لیے مسلسل احتیاطی تدابیر اپنانا ناگزیر ہے۔