Read in English  
       
BC reservation

حیدرآباد: ڈی ایم کے کی رکن پارلیمان کنی موزھی نے دہلی کے جنتر منتر پر جاری تلنگانہ کے 42 فیصد بی سی ریزرویشن BC reservationکے مطالبے کی زور دار حمایت کی اور کہا کہ مرکز کو فوری طور پر ریزرویشن کی حد میں ترمیم کرنی چاہیے تاکہ پسماندہ طبقات کو انصاف مل سکے۔

بدھ کے روز کانگریس کی قیادت میں منعقد احتجاجی دھرنے میں شریک ہو کر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کنی موزھی نے کہا کہ تاریخی طور پر محروم طبقات آج بھی منظم ناانصافی کا شکار ہیں، اور آئینی نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

تامل ناڈو کا 69 فیصد ماڈل ملک کے لیے مثال

کنی موزھی نے زور دیا کہ تامل ناڈو نے 69 فیصد ریزرویشن کامیابی سے نافذ کیا ہے اور یہ نظام پیریار تحریک کے دور سے رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ تامل ناڈو واحد ریاست ہے جس نے مرکز سے استثنیٰ حاصل کر کے ریزرویشن کی مقررہ حد سے آگے بڑھ کر سماجی انصاف کو یقینی بنایا۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کا 42 فیصد بی سی ریزرویشن بل قابل ستائش ہے اور ڈی ایم کے ان کی کوششوں کی ریاستی اور پارلیمانی سطح پر مکمل حمایت کرتی ہے۔

ڈی ایم کے، تلنگانہ ایم پیز کے ساتھ کھڑی رہے گی

کنی موزھی نے یقین دلایا کہ ڈی ایم کے پارٹی پارلیمنٹ میں تلنگانہ کے ارکان پارلیمان کے ساتھ کھڑی ہوگی اور اس آئینی جدوجہد میں بھرپور حصہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ مرکز اپنی پرانی حد بندیوں پر نظر ثانی کرے اور بی سی طبقات کو ان کا جائز حصہ فراہم کرے۔

یہ بیان جنوبی ہند کی دو اہم علاقائی جماعتوں کے درمیان نایاب یکجہتی کی علامت ہے، جو بی سی ریزرویشن جیسے حساس آئینی مسئلے پر مشترکہ موقف کو ظاہر کرتا ہے۔