Read in English  
       
Caste Census

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے اتوار کے روز مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی مردم شماری کے عمل میں بی سی ذاتوں کی تفصیلات شامل کی جائیں۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پسماندہ طبقات کے لیے فلاحی پالیسیاں مزید مؤثر انداز میں تیار کی جا سکیں گی۔

نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرامارکا، وزراء پونم پربھاکر اور محمد اظہرالدین نے حیدرآباد میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک یادداشت پیش کی۔ اس وفد کے ساتھ پروٹوکول چیئرمین ہرکارا وینوگوپال بھی موجود تھے۔

یہ یادداشت وزیر اعظم کے گجرات روانہ ہونے سے قبل ان کے حوالے کی گئی۔ وفد نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ جاری قومی مردم شماری میں پسماندہ طبقات کی الگ تفصیلات درج کرنے کے لیے خصوصی انتظام کیا جائے۔

بی سی طبقات کے الگ اندراج کا مطالبہ | Caste Census

تلنگانہ حکومت نے مرکز سے درخواست کی کہ گھریلو مردم شماری شیڈول کے کالم 13 میں بی سی ذاتوں کی معلومات درج کرنے کے لیے الگ خانہ شامل کیا جائے۔ حکومت کے مطابق موجودہ مردم شماری فارمیٹ میں بی سی طبقات کے لیے مخصوص اندراج کی سہولت موجود نہیں ہے۔

دریں اثنا ریاستی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ بی سی ذاتوں کے درست اعداد و شمار جمع کرنے سے سماجی انصاف کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔ مزید برآں اس سے مختلف فلاحی اسکیموں کی منصوبہ بندی میں بھی مدد ملے گی۔

حکومت نے کہا کہ پسماندہ طبقات کی حقیقی آبادی اور سماجی حیثیت سے متعلق معلومات حاصل ہونے پر ترقیاتی پروگراموں کو زیادہ مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے گا۔ ان کے مطابق درست اعداد و شمار پالیسی سازی کے عمل میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

فلاحی منصوبہ بندی پر زور | Caste Census

وفد نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جاری ملک گیر مردم شماری میں بی سی طبقات کی تفصیلات شامل کرنے کی تجویز کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔ تلنگانہ حکومت کے مطابق اس اقدام سے پسماندہ طبقات کے لیے مختص فلاحی اسکیموں کی بہتر نگرانی اور مؤثر نفاذ ممکن ہوگا۔

مزید یہ کہ حکومت نے زور دیا کہ سماجی اور معاشی پسماندگی سے متعلق درست معلومات کے بغیر جامع ترقیاتی حکمت عملی تیار کرنا مشکل ہے۔ اسی لیے بی سی ذاتوں کی مکمل مردم شماری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔

ریاستی حکومت نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت اس مطالبے پر مثبت غور کرے گی تاکہ سماجی انصاف اور فلاحی منصوبہ بندی کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔