Read in English  
       
Payment Crisis

حیدرآباد ۔ تلنگانہ اسمبلی میں آروگیہ شری اسکیم کے بقایا جات کو لے کر ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے جہاں سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے خبردار کیا کہ ادائیگیوں میں تاخیر کے باعث کئی اسپتال بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے صحت کے نظام پر سنگین اثرات ڈالنا شروع کر دیے ہیں۔

پس منظر کے طور پر ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت گرین چینل کے ذریعے ادائیگیوں کا دعویٰ کر رہی ہے، تاہم حقیقت میں فنڈز جاری نہیں کیے جا رہے۔ مزید برآں، انہوں نے الزام لگایا کہ اس تاخیر کے باعث خاص طور پر چھوٹے اسپتال شدید مالی بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔ نتیجتاً، آروگیہ شری کے تحت علاج کی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کئی چھوٹے اسپتال بند ہو سکتے ہیں، جس سے مریضوں کو علاج کی سہولت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ اس کے ساتھ انہوں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا تاکہ نظام کو مستحکم رکھا جا سکے۔

علاج تک رسائی پر اثرات| Payment Crisis

ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس نے انتخابی وعدے میں آروگیہ شری کی حد 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، ان کے مطابق اس اضافے سے 2.5 سال میں صرف 496 افراد کو فائدہ پہنچا۔ مزید یہ کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کارپوریٹ اسپتال بڑی سرجریز کے لیے آروگیہ شری کے تحت خدمات فراہم نہیں کر رہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت اسکیم کے نفاذ کا ازسرنو جائزہ لے تاکہ اس کی افادیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ اسی دوران انہوں نے بتایا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں 607 افراد کو 5 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک مالی امداد فراہم کی گئی تھی۔

بقایا جات اور اسپتالوں کا بحران| Payment Crisis

انہوں نے الزام لگایا کہ اسپتالوں کی جانب سے نوٹس جاری کرنے کے باوجود حکومت نے بقایا جات ادا نہیں کیے۔ مزید برآں، اس تاخیر نے چھوٹے اسپتالوں کو شدید مالی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ نتیجتاً، کئی ادارے بند ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ہریش راؤ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بقایا جات کی مکمل تفصیل پیش کرے اور واضح کرے کہ کتنی رقم ابھی تک واجب الادا ہے۔ لہٰذا، انہوں نے ادائیگیوں کے لیے ایک واضح ٹائم لائن دینے پر بھی زور دیا۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صحت کا پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تاکہ مریضوں کو بلا رکاوٹ علاج فراہم کیا جا سکے۔