Read in English  
       
Defection Case

حیدرآباد ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایم ایل اے انحراف معاملے میں اسمبلی اسپیکر اور 7 ارکان اسمبلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریاست کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ یہ معاملہ بی آر ایس کے ارکان کے کانگریس میں شامل ہونے سے متعلق ہے، جس پر اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ عدالت نے فریقین سے وضاحت طلب کرتے ہوئے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

ڈویژن بنچ نے اسپیکر کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی اور متعلقہ افراد سے جواب طلب کیا۔ نتیجتاً، عدالت نے اسپیکر اور ارکان اسمبلی کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ہدایت دی۔ تاہم، اس پیش رفت نے سیاسی حلقوں میں بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

اسپیکر کے فیصلے پر عدالتی سوالات | Defection Case

عدالت نے دانم ناگیندر، اریکپودی گاندھی، کالے یدیاہ، پرکاش گوڑ، پوچارم سرینواس ریڈی، بندلا کرشنا موہن ریڈی اور تیلم وینکٹا راؤ کو تفصیلی جوابات داخل کرنے کا حکم دیا۔ مزید برآں، انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات پر مکمل وضاحت پیش کریں۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اسپیکر کا فیصلہ آئینی دفعات کے خلاف ہے۔ لہٰذا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ بی آر ایس سے کانگریس میں شامل ہونے والے ارکان کو فوری طور پر نااہل قرار دیا جائے۔ اس طرح یہ معاملہ آئینی تشریح کا اہم امتحان بن گیا ہے۔

سیاسی ردعمل اور آئندہ سماعت | Defection Case

اس پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جبکہ مختلف جماعتیں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دریں اثنا، عدالت نے سماعت کو 16 اپریل تک ملتوی کر دیا، جس کے بعد اگلے مرحلے کا انحصار جمع کرائے جانے والے جوابات پر ہوگا۔

اسی دوران ایک علیحدہ درخواست میں بی جے پی کے رکن اسمبلی مہیشور ریڈی نے خیرتاباد کے رکن اسمبلی دانم ناگیندر کو دی گئی کلین چٹ کو چیلنج کیا۔ نتیجتاً، عدالت نے اس معاملے میں بھی اسپیکر اور ناگیندر کو نوٹس جاری کیے۔ آخر میں، اس کیس کا حتمی فیصلہ آئندہ سماعت میں پیش ہونے والے دلائل پر منحصر ہوگا۔