Read in English  
       
Rice Exports

حیدرآباد ۔ ریاست تلنگانہ میں چاول کی برآمدات کا معاملہ اسمبلی میں نمایاں حیثیت اختیار کر گیا جہاں وزیر آبپاشی و شہری رسد این اتم کمار ریڈی نے طویل مدتی حکمت عملی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو عالمی سطح پر چاول کی بڑی طاقت بنانے اور کسانوں کو بہتر قیمتیں دلانے کے لیے یہ اقدام کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس معاملے پر اسمبلی میں شدید بحث بھی دیکھنے میں آئی۔

پس منظر میں یہ اقدام ریاستی معیشت اور زرعی پالیسی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ حکومت عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی دوران وزیر نے بی آر ایس کے رہنما ٹی ہریش راؤ کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ان پر ماضی میں چاول برآمدات سے متعلق افراد کی سفارش کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

مزید برآں وزیر نے کہا کہ چاول کی برآمدات ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد عالمی منڈی میں بہتر قیمت حاصل کرنا ہے۔ لہٰذا حکومت اس منصوبے کو اپنی کلیدی پالیسی کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے۔

ریکارڈ قیمت کا سنگ میل | Rice Exports

وزیر کے مطابق تلنگانہ نے چاول کی برآمدات میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے 22,750 میٹرک ٹن چاول فلپائن کو برآمد کیے۔ اس معاہدے کے تحت فی کوئنٹل 3,600 روپے کی قیمت حاصل ہوئی جو کہ اس قسم کے چاول کے لیے کسی بھی بھارتی برآمدی منڈی میں سب سے زیادہ ہے۔

دوسری جانب پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں ایف سی آئی نیلامی کے دوران 3,000 روپے فی کوئنٹل پر بھی خریدار نہیں مل سکے۔ نتیجتاً تلنگانہ نے اس حکمت عملی کے ذریعے تقریباً 13 کروڑ روپے کے ممکنہ نقصان سے بچاؤ حاصل کیا۔

مضبوط خریداری نظام | Rice Exports

وزیر نے کہا کہ چاول کی برآمدات کے پیچھے مضبوط خریداری نظام اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس وقت ریاست کے پاس 86 لاکھ میٹرک ٹن چاول کا ذخیرہ موجود ہے۔ مزید یہ کہ ایف سی آئی کی محدود خریداری کے باوجود حکومت نے کسانوں سے خریداری کا عمل جاری رکھا۔

شہری رسد کارپوریشن نے خریف سیزن کے دوران 72 لاکھ میٹرک ٹن چاول خریدے، جو اس سیزن کی اب تک کی سب سے زیادہ خریداری ہے۔ اس کے نتیجے میں کسانوں کو یقینی قیمتیں فراہم ہوئیں اور اضافی ذخیرہ برآمدات کے لیے استعمال کیا جا سکا۔

اسی دوران حکومت نے واضح کیا کہ مسلسل خریداری نہ صرف کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے بلکہ برآمدات کو بھی مستحکم بناتی ہے۔ لہٰذا یہ پالیسی زرعی معیشت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہے۔

آخر میں وزیر نے کہا کہ تلنگانہ کا مقصد تھائی لینڈ اور ویتنام جیسے عالمی برآمد کنندگان کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ مزید برآں یہ حکمت عملی عالمی منڈی میں ریاست کی موجودگی کو مضبوط بنانے کے ساتھ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گی۔ نتیجتاً حکومت اس طویل مدتی منصوبے کے تحت زرعی معیشت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔