Read in English  
       
Musi Project

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ حکومت نے حیدرآباد کو دہلی جیسا آلودہ شہر بننے سے بچانے کے لیے ایچ آئی ایل ٹی پالیسی متعارف کرائی ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر شہری اصلاحات پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے قانون ساز کونسل میں حیدرآباد کی ترقی پر بحث کے دوران بتایا کہ موسی دریا کی صفائی کے ساتھ ساتھ شہر میں ایلیویٹڈ کاریڈورز بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کے لیے وسیع پیمانے پر زمین کے حصول کی ضرورت نہیں ہوگی۔

وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ حکومتی اصلاحاتی اقدامات کی حمایت کریں۔ اسی دوران، انہوں نے بنیادی ڈھانچے کے اہم منصوبوں کے نفاذ میں تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ترقیاتی کام تیزی سے مکمل ہو سکیں۔

موسی دریا صفائی کی اہمیت | Musi Project

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موسی دریا کی صفائی شہر کے لیے فوری ضرورت بن چکی ہے، لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر اس منصوبے کی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے گجرات میں سابرمتی دریا کی صفائی کی حمایت کی تھی، تاہم حیدرآباد میں موسی منصوبے پر اعتراضات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں۔

مزید برآں، انہوں نے کہا کہ حکومت تعمیری تجاویز کا خیرمقدم کرے گی اور اگر ضرورت پڑی تو وزراء پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی تاکہ اپوزیشن کی آراء کو شامل کیا جا سکے۔ دریں اثنا، انہوں نے نشاندہی کی کہ سابقہ نلگنڈہ ضلع کے عوام اس آلودہ دریا کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے اس منصوبے کی مخالفت مناسب نہیں۔

متاثرہ خاندانوں کے لیے حکومتی یقین دہانی | Musi Project

وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ موسی منصوبے کے تحت بے گھر ہونے والے تمام افراد کی مکمل مدد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور انہیں بہتر رہائش فراہم کی جائے گی۔ مزید یہ کہ متاثرہ خواتین کو روزگار جاری رکھنے کے لیے بھی معاونت دی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی بھی فرد کو نقصان نہیں پہنچنے دے گی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کی مہم سے متاثر نہ ہوں۔ لہٰذا، حکومت اس منصوبے کو عوامی مفاد میں مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

آخر میں، وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ شہری اصلاحات اور ماحولیاتی بہتری کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ تاہم، تعاون اور مثبت رویے کے ذریعے ہی حیدرآباد کو ایک صاف اور ترقی یافتہ شہر بنایا جا سکتا ہے۔