Read in English  
       
Musi Rejuvenation

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت موسیٰ ندی کی بحالی کے منصوبے پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس جلد تیار کی جائیں گی۔ یہ بات آئی ٹی اور صنعتوں کے وزیر سریدھر بابو نے جمعہ کے روز قانون ساز اسمبلی میں کہی۔

اسمبلی اجلاس کے دوسرے دن سوالات کے وقفے کے دوران جواب دیتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ عثمان ساگر سے باپو گھاٹ تک موسیٰ ندی کی ترقیاتی سرگرمیوں کا مطالعہ جاری ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کرنے کے لیے اسے پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، تاکہ کام مؤثر اور منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 55 کلومیٹر طویل حصے میں ترقیاتی کام انجام دینے کا منصوبہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عثمان ساگر سے گوریلی تک مطالعہ کیا جا رہا ہے، جبکہ گاندھی سروور کی ترقی بھی مجوزہ منصوبوں میں شامل ہے۔

ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی مالی معاونت | Musi Rejuvenation

وزیر نے بتایا کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے موسیٰ ندی کی بحالی کے منصوبے کے لیے مالی معاونت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس مقصد کے لیے سنگاپور میں قائم ایک کنسورشیم بھی تشکیل دیا گیا ہے، جو ندی کی بحالی کے عمل میں تکنیکی تعاون فراہم کرے گا۔

ان کے مطابق ایم آر ڈی سی ایل اس منصوبے پر عمل درآمد کرے گا، جس کے لیے 4,100 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا جائے گا۔ وزیر نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ماحولیاتی بہتری کے ساتھ ساتھ شہری ڈھانچے کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم بنانا ہے۔

اسمبلی میں یوریا بحران پر ہنگامہ | Musi Rejuvenation

اسی دوران اسمبلی میں بی آر ایس اراکین نے یوریا کی قلت پر سوالات کے وقفے کے دوران احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ وزیر نے احتجاج کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا اپوزیشن کو سوالات کے وقفے میں دلچسپی نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت ایوان میں یوریا کے مسئلے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کے مسائل پر کھلے دل سے گفتگو کی جا سکتی ہے، لیکن ایوان کی کارروائی میں خلل مناسب نہیں۔

آخر میں وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں اور زرعی مسائل دونوں کو یکساں اہمیت دے رہی ہے اور تمام معاملات کو ذمہ داری کے ساتھ حل کیا جائے گا۔