Read in English  
       
Innovation Hub

حیدرآباد: راجیو گاندھی یونیورسٹی آف نالج ٹیکنالوجیز باسر میں اختراع اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ تلنگانہ کے گورنر جشنو دیو ورما نے جمعرات کے روز آن لائن تقریب کے ذریعے انوویشن، انکیوبیشن اور انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ سیل کا افتتاح کیا۔ اس اقدام کو دیہی طلبہ کے لیے نئے مواقع کی شروعات قرار دیا جا رہا ہے۔

پس منظر کے طور پر، یونیورسٹی کا قیام دیہی نوجوانوں کو معیاری تکنیکی تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا۔ اب نئے سیل کے ذریعے طلبہ کو عملی میدان میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔ حکام کے مطابق اس قدم سے تعلیمی ماحول میں تخلیقی سوچ کو تقویت ملے گی۔

نئے سیل کے قیام کے لیے گورنر نے اپنے صوابدیدی فنڈ سے مالی منظوری دی۔ اس رقم سے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اپس کی مدد کی جائے گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس تعاون سے طلبہ کے خیالات کو عملی شکل دینا آسان ہو جائے گا۔

طلبہ کے لیے رہنمائی اور سہولیات | Innovation Hub

اس سیل کے تحت طلبہ کو ماہرین کی سرپرستی، کام کرنے کی جگہ اور صنعت سے رابطے فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی کمپنیوں کے آغاز کے عمل میں بھی رہنمائی دی جائے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو امید ہے کہ یہ نظام طلبہ کے اعتماد میں اضافہ کرے گا۔

خصوصی توجہ زراعت، صحت اور پائیداری سے متعلق حل پر مرکوز رکھی جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ شعبے مقامی اور حقیقی مسائل سے جڑے ہوئے ہیں، جن کے لیے عملی حل وقت کی ضرورت ہیں۔

اخلاقی اقدار اور سماجی ذمہ داری پر زور | Innovation Hub

گورنر نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اختراع کے عمل میں مضبوط اخلاقی اقدار اور سماجی ذمہ داری کو پیش نظر رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی اسی وقت بامعنی ہوتی ہے جب اس کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔

آخر میں انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ ادارہ وکست بھارت وژن کے تحت ایک نمایاں اختراعی مرکز بن سکتا ہے۔ گورنر نے یقین دہانی کرائی کہ اس سیل کو مضبوط بنانے کے لیے آئندہ بھی تعاون جاری رہے گا۔