Read in English  
       
Police Reforms

حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے وارڈز کی تازہ ازسرِنو تنظیم کے بعد حیدرآباد کے پولیس نظام میں بڑی سطح پر تبدیلیاں عمل میں لانے کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ پولیس یونٹس کو نئے شہری حدود کے مطابق ہم آہنگ کرنے کے لیے تینوں کمشنریٹس میں جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس عمل کا مقصد آبادی اور جرائم کے رجحانات کے مطابق پولیس دائرہ اختیار کو مؤثر بنانا ہے۔

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی ہدایت پر سینئر پولیس اور بلدیاتی حکام نے متعدد جائزہ اجلاس منعقد کیے۔ ان اجلاسوں میں ہوم سکریٹری سی وی آنند، ڈی جی پی روی گپتا اور کمشنرز وی سی سجنار، سدھیر بابو اور اویناش موہنتی شریک رہے۔ اتوار کو ہونے والے تفصیلی اجلاس میں مجوزہ خاکے پر گہرائی سے غور کیا گیا۔

پولیس حدود کی نئی ترتیب | Police Reforms

منصوبے کے تحت جی ایچ ایم سی کے حلقوں کو پولیس ڈویژنز اور جی ایچ ایم سی زونز کو مکمل پولیس زونز میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کئی چھوٹے وارڈز کو ایک پولیس رینج میں ضم کرنے پر بھی غور ہو رہا ہے تاکہ وسائل کے بہتر استعمال اور فوری کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

تجویز کے مطابق تینوں کمشنریٹس میں پولیس زونز کی تعداد 16 سے کم ہو کر 12 رہ جائے گی۔ حیدرآباد کمشنریٹ میں زونز کی تعداد 7 سے گھٹ کر 6 ہوگی، جبکہ سائبرآباد اور رچہ کونڈا میں بالترتیب 5 اور 4 کے بجائے 3، 3 زونز ہوں گے۔ چارمینار، گولکنڈہ، خیرت آباد، راجندر نگر، شمس آباد اور سکندرآباد کو نئے حیدرآباد کمشنریٹ ڈھانچے میں شامل کیا جائے گا۔

تھانوں کا انضمام اور ناموں پر غور | Police Reforms

رچہ کونڈا میں یادادری بھونگیر زون کو کمشنریٹ سے الگ کر کے ضلع ایس پی کے تحت لانے کی تجویز ہے۔ اسی طرح سائبرآباد میں آؤٹر رنگ روڈ سے باہر شاد نگر اور دیگر علاقوں پر مشتمل نیا زون بنانے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم فی الحال یہ علاقے سائبرآباد کے دائرہ اختیار میں ہی رہیں گے۔

حکومت رچہ کونڈا کمشنریٹ کا نام تبدیل کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، جس کے لیے لاسکر، مہانکالی اور سکندرآباد جیسے نام زیرِ بحث ہیں۔ اس کے علاوہ سکندرآباد کے بعض پولیس تھانے، جو ٹینک بند کے اُس پار واقع ہیں، حیدرآباد سے نکال کر رچہ کونڈا میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح شمس آباد ہوائی اڈہ اور اس کے اطراف کے علاقے جیسے راجندر نگر، عطاپور، آدی بٹلا، پہاڑی شریف اور بالاپور کو حیدرآباد کمشنریٹ میں شامل کرنے کی تجویز ہے۔ پٹن چیرو کے کچھ تھانے، جو فی الحال سنگاریڈی ضلع میں ہیں، سائبرآباد میں ضم کیے جا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق حکومت آج پیر یا منگل تک اس نئی تنظیم نو کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے۔ ابتدائی اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پولیس ماڈل کی طرز پر واٹر بورڈ، ٹرانسکو اور جی ایس ٹی جیسے محکموں میں بھی اسی نوعیت کی ازسرِنو تنظیم زیر غور ہے۔