Read in English  
       
Open AI

حیدرآباد: سابق آئی ٹی وزیر کے ٹی راماراؤ نے عالمی مصنوعی ذہانت کی کمپنی Open AIکو ہندوستان میں اپنا پہلا دفتر حیدرآباد میں قائم کرنے کی دعوت دی ہے۔ ان کا یہ اقدام، باوجود اس کے کہ وہ اپوزیشن میں ہیں، عوام اور صنعتی ماہرین کی جانب سے خوب سراہا گیا۔

اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے حال ہی میں ایکس پر اعلان کیا تھا کہ کمپنی ہندوستان میں اپنا پہلا دفتر کھولنے جا رہی ہے۔ اس پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ حیدرآباد اس کے لیے سب سے موزوں مقام ہے۔ انہوں نے ٹی-ہب، وی-ہب، ٹی-ورکس اور اختراعی ماحول کے ساتھ شہر کے مضبوط ایکو سسٹم کو اجاگر کیا۔

کے ٹی آر نے یاد دلایا کہ ان کی وزارت کے دوران تلنگانہ نے 2020 کو مصنوعی ذہانت کا سال قرار دیا تھا اور کئی اے آئی پروگرامز کی میزبانی کی تھی۔ ریاست کے پہلے آئی ٹی وزیر کی حیثیت سے انہوں نے نئی صنعتی و آئی ٹی پالیسیوں کو متعارف کرایا اور حیدرآباد کو عالمی ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر مستحکم کیا۔

آئی ٹی شعبے کی برآمدات 2014 میں 57,258 کروڑ روپئے سے بڑھ کر 2023-24 میں 2.70 لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ گئیں، یعنی ایک دہائی میں 2.13 لاکھ کروڑ روپئے کا اضافہ ہوا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ یہ ایکو سسٹم ہی ہے جس نے عالمی کمپنیوں کو راغب کیا اور حیدرآباد کے آئی ٹی برانڈ کو مزید تقویت دی۔

سوشل میڈیا پر شہریوں نے ان کی پہل کو سراہتے ہوئے کہا کہ شاذونادر ہی اپوزیشن رہنما اپنے ریاست میں سرمایہ کاری کے لیے اتنی سرگرمی دکھاتے ہیں۔ کئی افراد نے دیگر ریاستی قائدین سے ان کے رویے کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد مستحکم حکمرانی کی ایک مثالی مثال ہے۔