Read in English  
       
BRS Leader KTR

حیدرآباد: تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں بی آر ایس کے رہنما اور پارٹی کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے آر ٹی سی کرایوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔ پارٹی کے سینئر رہنما ہریش راؤ اور دیگر اراکینِ اسمبلی بھی اس احتجاج میں شریک ہوئے۔ بی آر ایس نے اسے عوام دشمن فیصلہ قرار دیا ہے۔

چلو بس بھون| BRS Leader KTR

جمعرات کے روز سخت سیکیورٹی کے درمیان کے ٹی آر، ہریش راؤ، اور سابق وزرا تلاسانی سرینواس یادو، ٹی پدما راؤ اور پی سبیتا اندراریڈی نے ’چلو بس بھون‘ پروگرام کے تحت آر ٹی سی بسوں میں سفر کیا۔ یہ رہنما ریٹھی فائل اور مہدی پٹنم اسٹاپ سے روانہ ہوئے۔

راستے میں بی آر ایس کارکنوں کی بڑی تعداد بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئی جس سے قافلے کی طرف عوامی توجہ مبذول ہوئی۔ پولیس نے انہیں آر ٹی سی ایکس روڈز کے قریب روکا، تاہم بعد میں صرف سینئر رہنماؤں کو بس بھون جانے کی اجازت دی گئی۔

بس بھون پہنچنے کے بعد بی آر ایس وفد نے ٹی جی ایس آر ٹی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات کی اور کرایوں میں اضافے کے خلاف یادداشت پیش کی۔

رہنماؤں نے گریٹر حیدرآباد کی حدود میں اضافی کرایے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو کارپوریشن کے واجب الادا بقایاجات واضح کرنے چاہئیں۔

میڈیا سے گفتگو میں کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ بی آر ایس عام مسافروں اور آر ٹی سی ملازمین دونوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو کسی بھی صورت آر ٹی سی کی نجکاری نہیں کرنی چاہیے۔

آر ٹی سی منیجنگ ڈائریکٹر کو پیش کی یادداشت | BRS Leader KTR

انہوں نے کرایوں میں اضافے کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے غریب اور متوسط طبقے پر غیر ضروری بوجھ پڑا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا، ’’بس کے کرایے فوراً کم کیے جائیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کے لیے مفت سفر اسکیم حکومت کی اپنی پالیسی ہے، اس اسکیم کے نقصانات کا بوجھ عام مسافروں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ آخر میں انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور عوامی ٹرانسپورٹ کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

بی آر ایس نے واضح کیا کہ وہ عوامی مفادات کے خلاف کسی بھی حکومتی فیصلے کو قبول نہیں کرے گی۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ اگر کرایے واپس نہ لیے گئے تو احتجاجی سلسلہ مزید وسیع کیا جائے گا۔