Read in English  
       
Forest Land Verdict

حیدرآباد ۔ سپریم کورٹ نے بھدرادری کوتہ گوڑم ضلع میں تقریباً 600 ایکڑ متنازعہ اراضی پر محکمہ جنگلات کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست گزاروں کی جانب سے دائر سول اپیل کو مسترد کردیا۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ سرکاری ریکارڈ اس زمین کو جنگلاتی اراضی قرار دیتا ہے اور درخواست گزار اپنی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

یہ تنازع کراکا گوڑم منڈل کے کلولا نگرم گاؤں کے سروے نمبر 81 کی اراضی سے متعلق ہے۔ حکومت نے 6 فروری 1950 کو گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اس زمین کو محفوظ جنگلات کی حدود میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں یہ زمین نظام دور حکومت میں 1931 سے 1933 فصلی کے درمیان الاٹ کی گئی تھی۔ اسی بنیاد پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس اراضی کو جنگلاتی حدود سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ تاہم، حکام کے سامنے وہ اپنی ملکیت کے حق میں معتبر دستاویزات پیش نہیں کرسکے۔

سرکاری ریکارڈ نے دعویٰ مضبوط کیا | Forest Land Verdict

19 مئی 2003 کو اُس وقت کے کھمم جوائنٹ کلکٹر نے درخواست گزاروں کے دعوے کو مسترد کردیا تھا۔ سرکاری افسر نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ دستیاب سرکاری ریکارڈ اس زمین کو جنگلاتی اراضی ظاہر کرتا ہے، لہٰذا ملکیت کا دعویٰ قابل قبول نہیں۔

بعد ازاں درخواست گزاروں نے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا جہاں ابتدائی طور پر سنگل جج نے ان کے حق میں فیصلہ سنایا۔ تاہم، بعد میں ڈویژن بینچ نے اس فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے حکومت کے مؤقف کو برقرار رکھا۔

دریں اثنا، معاملہ سپریم کورٹ پہنچا جہاں عدالت عظمیٰ نے تفصیلی سماعت کے بعد کہا کہ فیصل پٹی، وصول باقی اور پہانی جیسے ریونیو ریکارڈ صرف قبضہ ظاہر کرسکتے ہیں، ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں بن سکتے۔

سپریم کورٹ کا اہم مشاہدہ | Forest Land Verdict

سپریم کورٹ نے مزید مشاہدہ کیا کہ رٹ پٹیشن کے ذریعے ملکیت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے سابق سنگل جج کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے ڈویژن بینچ کے حکم اور جوائنٹ کلکٹر کے نتائج کی حمایت کی۔

مزید برآں، عدالت عظمیٰ نے کہا کہ درخواست گزار قانونی طور پر اپنی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہے، اس لیے ان کی اپیل میں کوئی وزن نہیں پایا گیا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے سول اپیل مسترد کرتے ہوئے محکمہ جنگلات کے دعوے کو برقرار رکھا۔

اس فیصلے کو ریاست میں جنگلاتی اراضی سے متعلق تنازعات کے لیے ایک اہم نظیر قرار دیا جارہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مقدمات میں سرکاری ریکارڈ کی اہمیت کو مزید مضبوط کرے گا۔