Read in English  
       
Growth Momentum

حیدرآباد ۔ تلنگانہ نے 2025-26 میں 10.7 فیصد شرح نمو حاصل کرتے ہوئے قومی اوسط 8 فیصد کو پیچھے چھوڑ دیا، جس کا اعلان وزیر خزانہ ملو بھٹی وکرمارکا نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کیا۔ اس کے ساتھ ریاست نے مسلسل معاشی استحکام کا مظاہرہ کیا۔ مزید برآں یہ کارکردگی عالمی اور ملکی چیلنجز کے باوجود برقرار رہی۔

پس منظر میں دیکھا جائے تو ریاست کی شرح نمو 2024-25 میں 10.6 فیصد سے بڑھ کر 2025-26 میں 10.7 فیصد ہو گئی۔ تاہم اسی مدت کے دوران قومی شرح نمو 9.8 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستی معیشت نے مضبوط مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔

ریاستی مجموعی پیداوار موجودہ قیمتوں پر 17,82,198 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ مزید یہ کہ ریاست کا قومی جی ڈی پی میں تقریباً 5 فیصد حصہ برقرار رہا۔ اس دوران صنعت اور خدمات کے شعبوں نے ترقی کو مسلسل سہارا دیا۔

فی کس آمدنی 4,18,931 روپے تک پہنچ گئی، جو قومی اوسط سے تقریباً 1.9 گنا زیادہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کے معیار زندگی اور آمدنی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مزید برآں فلاحی اسکیموں نے طلب اور کھپت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سرمایہ کاری اور ترقی کی رفتار | Growth Momentum

سرمایہ کاری نے ریاست کی معاشی رفتار کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران 5.75 لاکھ کروڑ روپے کے وعدے حاصل کیے گئے، جو مستقبل میں روزگار اور صنعت کو فروغ دیں گے۔ تاہم حکومت نے مالی دباؤ کے باوجود مالی نظم و ضبط برقرار رکھا۔

اسی دوران ترقیاتی پروگرام بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھے گئے۔ مزید یہ کہ اخراجات کی بہتری اور مالی استحکام کے لیے اصلاحی اقدامات بھی کیے گئے۔ اس سے ریاستی معیشت کو طویل مدتی بنیادوں پر مضبوط بنانے میں مدد ملی۔

شعبہ جاتی ترقی اور مستقبل کے اہداف | Growth Momentum

ریاستی ترقی کو CURE، PURE اور RARE فریم ورک کے تحت آگے بڑھایا گیا، جس میں خدمات، صنعت اور زراعت کو متوازن انداز میں فروغ دیا گیا۔ مزید برآں شہری ترقی، خصوصاً حیدرآباد میں، اہم ترجیح رہی جہاں بڑے انفراسٹرکچر منصوبے جاری ہیں۔

آئی ٹی شعبہ بھی نمایاں رہا جہاں برآمدات 3.13 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئیں اور روزگار 9.39 لاکھ سے تجاوز کر گیا۔ حکومت نے اس شعبے کو مزید وسعت دینے کے لیے نئی پالیسیوں کا اعلان کیا۔ اسی کے ساتھ زراعت اور متعلقہ شعبوں میں بھی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا۔

وزیر خزانہ نے طویل مدتی اہداف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست 2034 تک 1 ٹریلین ڈالر اور 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کا ہدف رکھتی ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ تلنگانہ کی معاشی ترقی مضبوط بنیادوں، پالیسی اقدامات اور مسلسل سرمایہ کاری کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ تاہم مستقبل میں ان حکمت عملیوں کا تسلسل ہی اس رفتار کو برقرار رکھے گا۔