Read in English  
       
Beauty Economy

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کا دارالحکومت حیدرآباد عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقع پر نہ صرف مذہبی جوش و خروش بلکہ ایک بڑی سماجی اور معاشی سرگرمی کا منظر پیش کرتا ہے۔ عید کی تیاری اب صرف ملبوسات اور زیورات تک محدود نہیں رہی بلکہ حسن و آرائش، جلد کی نگہداشت اور ذاتی شخصیت کو بہتر بنانے کے رجحان میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی لیے شہر کے بڑے بیوٹی سیلونز سے لے کر گلی محلوں میں کام کرنے والی گھریلو بیوٹیشنز تک سب عید سے کئی ہفتے پہلے ہی مصروف ہو جاتے ہیں۔

حیدرآباد کے مختلف علاقوں جیسے پرانا شہر، ٹولی چوکی، بنجارہ ہلز اور ہائی ٹیک سٹی میں عید کی تیاریوں کا انداز مختلف ہوتا ہے مگر مقصد ایک ہی رہتا ہے کہ عید کے دن بہترین نظر آیا جائے۔ مزید برآں بیوٹی سیلونز، اسپا سینٹرز اور گھریلو بیوٹیشنز اس سیزن میں سال بھر کی نسبت زیادہ آمدنی حاصل کرتے ہیں کیونکہ طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

مہندی کا فن اور روایتی ثقافت | Beauty Economy

حیدرآباد کی ثقافت میں مہندی کو خاص اہمیت حاصل ہے اور عید کے موقع پر اس کی مانگ کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ لاڈ بازار اور چارمینار کے اطراف چاند رات کے موقع پر مہندی آرٹسٹوں کے اسٹالز لگ جاتے ہیں جہاں خواتین کی بڑی تعداد مہندی لگوانے کے لیے پہنچتی ہے۔

Beauty Economy

وقت کے ساتھ مہندی کے ڈیزائنز میں بھی نمایاں تنوع پیدا ہوا ہے۔ پہلے جہاں سادہ ڈیزائنز مقبول تھے وہیں اب عربی، پاکستانی اور دیگر بین الاقوامی انداز کے ڈیزائنز بھی مقبول ہو گئے ہیں۔ بعض ماہر مہندی آرٹسٹ ’پورٹریٹ مہندی‘ جیسی منفرد خدمات بھی فراہم کرتے ہیں جس میں ہاتھ پر کسی چہرے یا مخصوص تصویر کا نقش بنایا جاتا ہے۔

اسکن کیئر اور جدید فیشل ٹریٹمنٹس | Beauty Economy

ماہرین حسن کے مطابق عید سے پہلے خواتین صرف میک اپ پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ جلد کی دیکھ بھال کو بھی اہمیت دیتی ہیں۔ رمضان کے دوران نیند کے اوقات میں تبدیلی اور پانی کی کمی کے باعث جلد متاثر ہوتی ہے جس کے باعث فیشلز اور اسکن ٹریٹمنٹس کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔

آج کل حیدرآباد میں کورین گلاس اسکن فیشل اور ہائیڈرا فیشل جیسے جدید ٹریٹمنٹس مقبول ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گولڈ اور ڈائمنڈ فیشل جیسے روایتی طریقے بھی بدستور پسند کیے جاتے ہیں۔ بڑے برانڈز جیسے لیکمے سیلون اور نیچرلس اپنے معیاری پروڈکٹس اور جدید آلات کے ذریعے گاہکوں کا اعتماد حاصل کر رہے ہیں۔

گھریلو بیوٹیشنز اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ | Beauty Economy

حیدرآباد میں گھریلو بیوٹیشنز بھی عید کے سیزن میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ متوسط طبقے اور پرانے شہر کی خواتین اکثر گھریلو بیوٹیشنز کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ وہ کم قیمت، گھر پر خدمات اور پردے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

Beauty Economy

مزید برآں ڈیجیٹل دور میں واٹس ایپ اور سوشل میڈیا نے ان کے کاروبار کو نئی رفتار دی ہے۔ بیوٹیشنز اپنے کام کے نمونے اور قیمتوں کی تفصیلات آن لائن شیئر کر کے براہ راست گاہکوں تک پہنچ رہی ہیں۔ اسی طرح اربن کمپنی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی خدمات حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے جس سے گاہکوں کو سہولت ملتی ہے۔

مردانہ آرائش کا بڑھتا ہوا رجحان | Beauty Economy

حیدرآباد میں عید کی تیاریوں میں مردوں کی آرائش بھی اہم حصہ بن چکی ہے۔ پہلے مرد صرف بال کٹوانے تک محدود رہتے تھے لیکن اب مردانہ بیوٹی انڈسٹری بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

بنجارہ ہلز اور جوبلی ہلز میں موجود لگژری مینز سیلونز میں ہیئر کٹ، بیئرڈ اسکلپٹنگ اور مردانہ فیشل جیسی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم کارپوریٹ سیلونز کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے مقامی نائیوں کے لیے معاشی چیلنج بھی پیدا کیے ہیں کیونکہ بڑے برانڈز کم قیمت پیکجز کے ذریعے گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

عید سیزن اور قیمتوں میں اضافہ | Beauty Economy

عید کے موقع پر بیوٹی انڈسٹری میں طلب میں اضافہ ہونے کے باعث قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ سیلونز کو اضافی عملہ رکھنا پڑتا ہے اور رات دیر تک خدمات فراہم کرنی پڑتی ہیں جس سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔

’’عام دنوں میں جو خدمات چند سو روپے میں دستیاب ہوتی ہیں وہ چاند رات کو کہیں زیادہ قیمت پر فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد عید کی تیاریوں کے لیے سیلونز اور مہندی آرٹسٹوں کا رخ کرتی ہے۔‘‘

صارفین کے حقوق اور احتیاطی تدابیر | Beauty Economy

بیوٹی سروسز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ صارفین کے حقوق کا مسئلہ بھی اہم ہو گیا ہے۔ بعض معاملات میں غیر تربیت یافتہ عملہ یا غیر معیاری مصنوعات استعمال کرنے سے صارفین کو نقصان پہنچنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

’’ماہرین کا کہنا ہے کہ گاہکوں کو چاہیے کہ کسی بھی کیمیکل ٹریٹمنٹ سے پہلے الرجی ٹیسٹ ضرور کروائیں اور صرف مستند ماہرین سے خدمات حاصل کریں۔ اس طرح نہ صرف صحت کے مسائل سے بچا جا سکتا ہے بلکہ بہتر نتائج بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

مستقبل کی سمت اور معاشی اثرات | Beauty Economy

حیدرآباد میں عید سے قبل حسن و آرائش کی صنعت اب ایک منظم معاشی سرگرمی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف شہر کی معیشت کو مضبوط بناتا ہے بلکہ ہزاروں خواتین اور نوجوانوں کو روزگار بھی فراہم کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، پیشہ ورانہ تربیت اور معیاری خدمات اس صنعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اگر روایت اور جدید معیشت کو یکجا کیا جائے تو یہ شعبہ مزید ترقی کر سکتا ہے اور شہری معیشت میں اہم حصہ بن سکتا ہے۔