Read in English  
       
Online Trading

حیدرآباد: شہر کے علاقہ آصف نگر سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ شخص کو جعلی آن لائن ٹریڈنگ اسکیم کے ذریعے 27 لاکھ سے زائد روپئے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ متاثرہ شخص کو فیس بک پر نظر آنے والے ایک اشتہار اور بعد ازاں واٹس ایپ گروپ کے ذریعے سرمایہ کاری پر آمادہ کیا گیا۔ فراڈ کرنے والوں نے ایک موبائل ایپ کے ذریعے جعلی منافع دکھا کر اعتماد حاصل کیا۔

سائبر کرائم پولیس کے مطابق متاثرہ شخص نے ابتدا میں 10,000 روپئے کی سرمایہ کاری کی۔ بعد میں مسلسل رقم جمع کرواتے ہوئے مجموعی سرمایہ کاری 27,05,000 روپئے تک پہنچ گئی۔ ایپ میں بیلنس 81.69 لاکھ روپئے ظاہر کیا جا رہا تھا، تاہم رقم نکالنے کی کوشش پر مزید 50 لاکھ روپئے کا مطالبہ کیا گیا۔

جعلی منافع اور ایپ کا جال | Online Trading

اضافی رقم کے مطالبے کے بعد متاثرہ شخص کو احساس ہوا کہ وہ ایک منظم آن لائن فراڈ کا شکار ہو چکا ہے۔ اس کے بعد اس نے سائبر کرائم پولیس سے رجوع کیا، جہاں معاملے کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق اس طرح کی جعلی ایپس میں منافع صرف اسکرین تک محدود ہوتا ہے، جبکہ اصل رقم فراڈ کرنے والوں کے کنٹرول میں چلی جاتی ہے۔ رقم نکلوانے کے وقت دانستہ رکاوٹیں ڈال کر مزید پیسے بٹورنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عوام کے لیے سائبر پولیس کی ہدایات | Online Trading

سائبر کرائم پولیس نے عوام کے لیے تفصیلی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ٹریڈنگ پلیٹ فارم میں سرمایہ کاری سے قبل اس کی رجسٹریشن اور قانونی حیثیت کی تصدیق ضروری ہے۔ غیر متوقع پیغامات اور غیر معمولی منافع کے وعدوں سے محتاط رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

پولیس نے یہ بھی واضح کیا کہ بینک تفصیلات، او ٹی پی یا پاس ورڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کیے جائیں۔ اگر کوئی پلیٹ فارم ٹیکس یا پروسیسنگ فیس کے نام پر اضافی رقم طلب کرے تو فوراً محتاط ہو جائیں، کیونکہ اصل پلیٹ فارمز اس طرح کا مطالبہ نہیں کرتے۔

سائبر پولیس کے مطابق اگر کسی ایپ میں رقم نکالنے میں تاخیر ہو یا اکاؤنٹ بلاک کر دیا جائے تو یہ خطرے کی واضح علامت ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ دباؤ یا دھمکیوں میں آ کر کوئی ادائیگی نہ کریں اور فوری طور پر شکایت درج کروائیں۔