Read in English  
       
Fake WhatsApp Account

حیدرآباد: نرمل کی کلکٹر ابھیلاشا ابھینو کے نام اور تصویر کا استعمال کرتے ہوئے سائبر فراڈیوں نے ایک جعلی واٹس ایپ اکاؤنٹ بنایا، جس سے ضلع کے سرکاری عہدیداروں اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ کلکٹر کے دفتر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی اور عوام کے نام انتباہ جاری کیا تاکہ مزید غلط استعمال روکا جا سکے۔

تفصیلات اور کارروائی | Fake WhatsApp Account

چند عہدیداروں کو کلکٹر کے نام سے مشکوک پیغامات موصول ہونے کے بعد معاملہ سامنے آیا۔ جلد ہی کئی سینئر افسران نے تصدیق کی کہ انہیں بھی ایسے ہی پیغامات ملے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے وضاحت کی کہ کلکٹر کا اُس نمبر سے کوئی تعلق نہیں اور فراڈیے عوام سے مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کلکٹر کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ایسے پیغامات پر یقین نہ کریں اور ذاتی یا مالی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ جعلی نمبر تھائی لینڈ (+66 958518330) سے رجسٹرڈ ہے۔ پولیس نے ٹیکنیکل شواہد جمع کرتے ہوئے معاملے کی مزید جانچ شروع کر دی ہے۔ کلکٹر نے شہریوں سے کہا کہ کسی بھی مشکوک پیغام کی اطلاع فوری طور پر انتظامیہ کو دیں۔

ماضی کا واقعہ اور نئے خدشات | Fake WhatsApp Account

اس سے قبل سابق کلکٹر مشرف علی کے دور میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا، جب اُن کی تصویر استعمال کر کے جعلی اکاؤنٹ سے پیغامات بھیجے گئے تھے۔ اگرچہ اُس وقت نمبر مختلف تھا، مگر پروفائل تصویر نے کئی افراد کو دھوکے میں ڈال دیا۔ بعد ازاں حقیقت سامنے آنے پر کلکٹر نے عوام کو آگاہ کیا اور نمبر بلاک کر دیا۔

اب ایک بار پھر یہی طرزِ عمل دہرائے جانے سے نرمل میں سائبر سیکیورٹی کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے جعلی اکاؤنٹس نہ صرف عوامی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ ذاتی ڈیٹا کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔